A Column On Salma Awan

27 Views

فرد اور ریاست کے مابین کشمکش ایک جاری و ساری عمل ہے۔یہ بحث بھی لا مختتم ہے کہ ریاست کو کہاں تک فرد کے معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے یا یہ کہ فرد کہاں تک ریاستی امور میں مداخلت کا حقدارہے۔وہ لکیر کس جگہ کھینچی جائے جو فرد اور ریاست کے مابین حقوق و فرائض کا ٹھیک ٹھیک تعین کرے۔کہیں پڑھا تھا کہ زندہ معاشروں میں اس لکیر کا محل تبدل پذیر رہتا ہے اور یہ بحث ہمہ وقت جاری رہتی ہے کہ لکیر کہاں لگائی جانی چاہیئے!تاہم ایک بات طے ہے کہ مطلق العنان بادشاہوں کے دور سے لے کر جمہوری ریاستوں تک‘فردکے حقوق کے ادراک اور حصول میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ظاہر ہے کہ جدید دور کی فوجی و غیر فوجی آمرانہ حکومتیں یہاں استثنائی درجہ حاصل کریں گی جہاں فرد کے حقوق نہایت محدود کردیئے جاتے ہیں گویا فرد کی فردیّت کے باہرریاستی اجتماعیت کا دائرہ لگا دیا جاتا ہے بہرحال تاریخی طور پرانسان ریاست کی آن بان اور تحفظ کے نام پر قربان ہوتا آیا ہے۔ایک سچا تخلیق کار عوام کے حق میں جانبدار ہوتا ہے۔وہ نظریے اور ریاست سے بڑھ کر انسان کی نمائندگی کرتا ہے اور یہی کچھ کیا ہے سلمیٰ اعوان نے اپنے ناولٹ ”وہ اک تارا“ میں۔یہ ناولٹ نوے کی دہائی کے روس کے پس منظر میں لکھا گیاہے۔اس اعتبار سے اسکی فضا اجنبی سی ہونی چاہیئے تھی لیکن آفرین ہے کہ سلمیٰ اعوان کی فنی دسترس نے اسے ہر دل سے مانوس کردیا ہے۔ناولٹ پڑھتے ہوئے قاری ڈوب سا جاتا ہے اور قدم قدم پر نئی حیرتوں سے دوچار ہوتا ہے۔سلمیٰ اعوان نے عظیم روسی شاعرپشکن کی چند نظموں کے اردو ترجمے متن کا حصہ بنائے ہیں۔ایک حصہ دیکھئے (ترجمہ ظ۔انصاری)
اک اداس سے شمع جلتی ہے
میرے اجڑے ہوئے گھرمیں
بجھی بجھی سی اس کی کرنیں
اندھیرا اور بھی بڑھاتی ہیں
سلمیٰ اعوان کے اس نہایت معیاری ناولٹ پر مزید بات کرنے سے پہلے اسکے پس منظر پر ایک نظر ڈالنا مناسب ہوگا۔
بیسویں صدی کے اواخر میں عظیم اشتراکی ملک سوویت یونین کا بکھر جانا نہایت اہم واقعہ تھا۔دیوارِبرلن کا گرنا‘روسی جمہوریاؤں کا بتدریج آزاد ہونا اور مشرقی یورپ کے ممالک کا سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھنا ایسے واقعات تھے جن پر سرمایہ دوست دانشوروں نے خوب بغلیں بجائیں۔خاصی عجلت میں مارکسی نظریے کی موت کا اعلان کردیا گیا۔اختتام تاریخ کا نعرہ بلند کرکے دنیا کو یک قطبی قراردے دیا گیا۔اتنے بڑے واقعے کے جملہ پہلوؤں کو گرفت میں لینے کیلئے جس زمانی فاصلے سے دیکھنے کی ضرورت تھی اس کا نہ کسی کے پاس وقت تھا نہ پروا۔
جس طرح ہمارے ہاں دائیں بازو کے اردو پریس نے ایک تجاہلِ مجرمانہ سے کام لے کر افغانستان میں روس کی پسپائی میں امریکہ کے کردار کو نظرانداز کرنا مناسب سمجھا‘بالکل اسی طرح سوویت یونین کی شکست و ریخت میں عالمی سطح پر سامراجی اور سرمایہ داری گماشتوں کی چیرہ دستیوں سے عمدا ًصرفِ نظر کیا گیا۔مقصود یہ تھا کہ اشتراکی نظام معیشت کو بلا شرکت غیرے مطعون کیا جاسکے۔پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ کس بے حسی کے ساتھ استحصالی سرمایہ داریت‘نو آزاد شدہ ریاستوں پر پل پڑی اور عوام الناس سے وہ حقوق اور سہولیات بھی چھیننے لگی جو اشتراکی نظام کے تحت ہر کس و ناکس کو حاصل تھیں۔چونکہ استحصال‘ سرمایہ دارانہ نظام کا جزوِ لازم ہے سو ان جمہوریاؤں سے عوامی سرمایہ باہر منتقل ہونے لگا۔ نتیجتاًعوام کا معیارِ

زندگی گہری کھائی میں گرنے لگا۔پھر ایسی سروے رپورٹیں بھی سامنے آئیں جن میں وسطی ایشیائی اور بالٹک ریاستوں کے ساتھ ساتھ مشرقی یورپی ممالک کے عوام کی اکثریت نے اشتراکی نظام کے تحت زندگی کو بہتر قراردیا۔
ان حالات میں سلمیٰ اعوان کا اردو ناولٹ”وہ اک تارہ“ سامنے آتا ہے جو ایک طرف سوویت یونین کے بکھرنے اور بعد کے سالوں کی تخلیقی و ادبی منظر کشی کرتا ہے اور دوسری طرف عوام کی تشویش اور دگر گوں حالاتِ زندگی کا بیانیہ ترتیب دیتا ہے۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد آمرانہ روسی نظام میں اختلاف کرنے والوں کو فسطائی حربوں سے خاموش کرنے کا معاملہ ہو یا جمہوریہ چیچنیا پر روسی یلغار‘یہ ناولٹ روس کے سیاسی‘معاشی اور عمرانی پہلوؤں پر بھرپور روشنی ڈالتا ہے۔
ناولٹ کی ہیروئن”اینا“ ایک بے باک صحافی خاتون ہے جو محب الوطن مارکسی ہے اور روس کی عظمت کا پرچم بلند دیکھنا چاہتی ہے۔وہ اپنے ملک پر سرمایہ داریت کی یلغار‘لیڈروں کی کوتاہ بینی کا تو پردہ چاک کرتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی جمہوریہ چیچنیا پر روسی یلغار کے خلاف بھی کھل کر لکھتی ہے یعنی اسکے صحافتی ادراک کا واضح جھکاؤ عوام کی طرف ہے۔جب‘جہاں اور جس کے ہاتھوں بھی عوام کا استحصال ہوا‘اینا نے تیز و تند مخالفانہ مضمون باندھے۔عوام جب بھی کسی کے جبر کے مجبور اور قہر کے مقہورہوئے‘اینا عوام کے ساتھ ساتھ جا کھڑی ہوئی۔سچ کی تلاش اور اس کے بے باکانہ اظہار میں وہ کسی کو نہیں بخشتی۔اینا کا قلم ہر حکومتی زیادستی کے خلاف اور عوام کے حق میں لڑتا رہا۔بالآخروہی ہوا جو ہوتا ہے۔روسی صدر پیوٹن کے دور میں پہلے اس کے محبوب خاوند ہیثم کو ماورائے عدالت حراست میں ڈال دیا جاتا ہے (جہاں سے بعدازاں بھاگ کر وہ برطانیہ میں جلا وطنی اختیار کرلیتا ہے) اور پھر اینا کو اسکے گھر میں گولی مار کر ہلا ک کردیا جاتا ہے۔
سلمیٰ اعوان نے یہ ناولٹ لکھنے کیلئے بہت ریسرچ ورک کیا۔
سٹالن کے عہد سے لے کر گورباچوف کے پریسٹرائیکا اور گلو سنوٹ تک اور پھر پیوٹن کی تاریخ حصہ متن کی ہے۔حقیقی واقعات کو فنکارانہ ہنرمندی سے ناولٹ کا حصہ بنایا۔جہاں جس قدر ضرورت تھی‘تاریخی تفصیل دی۔جس علاقے کی بات کی اس کو نگاہوں کے سامنے کھڑا کردیا۔کردار نگار ی میں مہارت اور چابکدستی کا ثبوت دیا۔کرداروں کی قدرتی Developmentمیں نفسیات کا خیال رکھا‘ناولٹ کا پلاٹ اتنا چست اور کسا ہوا ہے کہ مجموعی ساخت میں کوئی واقعہ یا تفصیل کہانی کی ضرورت سے زائد یا کم نہیں۔ناولٹ کے جملہ اجزا باہم دگر مضبوط اور کوئی جملہ بے جواز نہیں۔تخلیقی فقرہ سازی اور رواں دواں ادبی زبان نے اس ناولٹ کو اردو ادب کا نہایت اعلیٰ ناولٹ بنادیا ہے۔اس کی بہت بڑی خوبی دلچسپی ے پڑھا جاتا ہے۔کہیں اکتاہٹ نہیں ہوتی۔یہ قاری کو اپنے اندر جذب کرکے کہانی کے ساتھ چلاتا ہے اور یہ خوبی بہت اہم ہے۔اس میں فکشن کا وہ اسلوب سامنے آیا ہے جو لطف قرات کے ساتھ ساتھ نکتہ ہائے دانش بھی دیتا چلا جاتا ہے۔دھندلے مناظر واضح کرتا ہے۔
مثال کے طور دیکھنے میں آیا ہے کہ جو خواتین اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات میں بہت زیادہ ڈوب جاتی ہیں ان میں جذبات ِ لطیف کی کمی ہونے لگتی ہے حتی کہ بعض اوقات وہ فرض کی لگن میں اپنے ملبوس سے بھی بے نیاز ہی ہو جاتی ہیں۔جب یہی کچھ اینا کے ساتھ ہوتا ہے تو ہیثم کہتا ہے
”اینا‘پتھر مت بنتی جاؤ۔۔۔۔ کہیں تو چند لمحوں کیلئے زندگی کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں پر تمہاری آنکھ کو جمنا چاہیئے“
سچ تو یہ کہ شاعری‘موسیقی‘ادب‘آرٹ سب اسی وقت ممکن ہیں جب زندگی دو پل رک کر سانس لے۔جہاں ہر روز کوئی نیا ظلم‘نیا جبر انسانوں پر مسلط ہورہا ہو۔آئے دن خونریزی کی نئی خبر سننے کو ملے وہاں خوش رہنے کیلئے بے حس ہونا ضروری ہوجاتاہے لیکن یہاں تو اینا پولٹکو سکایا ہے جو ذہین‘دلیر

اور انسان دوست صحافی ہے جو خفیہ پولیس کے سربراہ کے سامنے خوفزدہ ہوئے بغیرکہہ سکتی ہے”آزادی چیچنیا کے لوگوں کا حق ہے۔تیل کے ذخائرانکی ملکیت ہیں۔روس تو بڑے اوچھے ہتھکنڈوں پر اترا ہوا ہے۔کسی بھی لڑائی کوجیتنے کیلئے کوئی اخلاقی جواز ہوتا ہے۔یہاں سرے سے ہی کچھ نہیں۔مظلوم اور محکوم کمیونٹی وہ خواہ کوئی بھی ہو اسکی سپورٹ اخلاقی فریضہ ہے“۔
اینا کا قتل ہوجانا اندھے ریاستی مفاد پر فرد کے خون خون ہوجانے کی محض ایک اور کہانی ہے۔اس بار یہ کہانی سلمیٰ اعوان کے قلم پر اتری ہے اور وہاں سے دلِ درد مندمیں کسی تیر کی طرح اترتی چلی گئی ہے۔
سلمیٰ اعوان ہمارے عہد کی ایک بہت اہم لکھاری ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں‘سفرناموں اور ناولٹوں میں قابلِ رشک تخلیقات پیش کی ہیں۔ان کا زاویہ سماجی حقیقت نگاری کا ہے۔افسانویت کا تانا بانا بنتے ہوئے انہوں نے کبھی بھی دور از کار تخیل کو آواز نہیں دی نہ ہی سفرنامے میں اپنی تشنہ تمناؤں کا رنگ بھرا ہے۔جودیکھا‘محسوس کیا اسے عمدہ ادبی تکنیک کے ساتھ معیاری ادبی زبان میں بیان کیا۔یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ سلمیٰ اعوان نے افسانوی تحریر میں اپنا ایک اسلوب دریافت اور اختیار کیا ہے جو کفایتِ لفظی‘بر محل مکالموں‘تشبیہات‘ حقیقی منظر نگاری اور روانیِ تحریر سے عبارت ہے۔
سلمیٰ اعوان نے خود روس کا سفر کیا۔سرزمین روس کو اپنی فکری ذات کا حصہ بنایا‘پھر بھرپور لگن اور مہارت سے ناولٹ قلم بند کیا۔اس میں کہیں واقعاتی جھول نہیں آنے دیا۔پوری کہانی کو ایک لہر میں چلایا کہ پورا ناولٹ ایک نشست میں پڑھے بغیر چین نہیں آتا۔اردو ادب میں اس نوع کے ”ذہین فکشن“ کی بہت ضرورت ہے جو اپنا ایک ورلڈ ویو رکھتا ہو۔ناولٹ میں سلمیٰ اعوان کی تخلیقی صلاحیت حیران کردینے والی ہے۔ایک دوسرے ملک کے پس منظر کو اس اپنے پن کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کہانی اجنبی دیس کی ہوتے ہوئے بھی اپنی اپنی لگتی ہے۔ناولٹ میں چھوٹے واقعات کا بھی مضبوط جواز پیدا کیا گیا ہے۔تھوڑے سے کرداروں کی مدد سے اتنی بڑی اور پھیلی ہوئی کہانی کہہ دینا سلمیٰ اعوان کا کارنامہ ہے۔وہ کہانی لکھتے ہوئے قطعاًجانبدار نہیں ہوئی۔متوازن‘معتدل اور واقعاتی انداز میں اس کہانی کو منطقی اور غیر جذباتی طریق پر بیان کردیا اور بہت کچھ سوچنے کیلئے قاری پر چھوڑ دیا۔حتمی فیصلے نہیں دیئے۔اپنے کردار وں کے ذریعے قاری کی سوچ کو بھی بتدریج بالغ کیا۔بڑے تخلیق کار کی طرح واقعات کوخود بولنے دیا اور آمرانہ نتیجے نکالنے سے گریز کیا۔
اردو فکشن کی روایت میں بیرونی ممالک کے Back Drop میں بہت کم کہانیاں اور ناول لکھے گئے۔یہ وہ میدان ہے جہاں رہوار ِ قلم سنے سنائے راستے پر دور تک نہیں چل سکتا۔اندازے ٹھوکر کھا کر گر پڑتے ہیں۔اسی لیے میں نے کہا کہ سلمیٰ اعوان نے یہ ناول لکھنے کیلئے بہت تحقیق کی۔کمال یہ کہ اپنی تحقیق کو تخلیق میں حل کرکے پیش کیا۔واقعہ صحافتی رپورٹنگ سے بلند ہوکر ادبی تخلیق کے طور پر ناولٹ کا نامیاتی جزو بنا۔یہ سلمیٰ اعوان کے فن کی کامیابی ہے۔مجھے اصرار ہے کہ ”وہ اک تارا‘اردو ناولٹ کی تاریخ میں ایک یادگار اور شاندار اضافہ ہے جو بے شمار فنی خوبیوں اور جان دار کہانیوں کے باعث یاد رکھا جائیگا۔

شہزاد نیرّ

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.