An Article On Sahir Ludhianvi

37 Views

دنیا گوناگوں تبدیلیوں کی زد پر ہے۔نئی سائنسی ایجادات آناً فاناً صنعتی پیمانے پر تیار ہوکر انسانی زندگی میں داخل ہورہی ہیں۔مشین پردار و مدار بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔سائنسی ایجادیں مزاجِ انسانی میں دخیل ہوچکی ہیں۔تبدیلی کی رفتار بہت تیز ہے۔
سیاسی تبدیلیاں اگرچہ کچھ سالوں سے جغرافیائی تبدیلیوں کا باعث نہیں بن رہیں لیکن ان تبدیلیوں کا انداز بھی بدل چکا ہے۔ اب کسی ملک پر کھلم کھلا قبضہ ہو بھی جاتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ قبضہ ہوا بھی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کی حکومت ہے! نئی نوآبادیت(Neo-Colonialism) کا وطیرہ یہ ہے کہ سامراج نواز حکومتوں کے ذریعے سے اپنی پالیسیوں کا نفاذ کیا جائے اور خاص طور پر اقتصادی مفادات کو بڑھاوا دیاجائے۔ میڈیا پراپیگنڈا اپنی انتہا کو چھورہا ہے۔ PerceptionہیRealityسمجھی جارہی ہے اور Realityکا کچھ پتہ نہیں۔
سب سے زیادہ گڑ بڑ نظریاتی اور فکری محاذوں پر ہوئی۔سرمایہ داریت نے لبرل ازم، جمہوریت، آزادی،کارپوریٹ کلچر، منڈی معیشت، آزاد تجارت اور گلوبلائزیشن کے ہتھیار پہن لیے ہیں۔ابھی End of History پر بغلیں بجائی جارہی تھیں کہ Clash of Civilizationsکے علی الرغم امریکی مرکزِ معیشت، جڑواں میناروں کی تباہی ہوگئی۔ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پراس قدر شور و غوغا ہوا کہ جم کر دیکھنے،سہج سمجھنے اور دھیرج سے پڑھنے اور غور کرنے کا رواج جاتا رہا۔منظر پر منظر آجارہے ہیں۔ سکرین پر بھی اور حقیقی زندگیوں میں بھی۔سرمائے کی ایک نامختتم دوڑ ہے جس میں سرمایہ سرمائے کو کھینچ رہاہے۔
اعلیٰ انسانی اقدار، سماجی و معاشی انصاف، بقائے باہمی، مساوات اور ایسے ہی کئی آدرش سازش کے تحت Out datedقرار دئیے جارہے ہیں۔پیسہ خدا کا نیا نام تجویز ہوا ہے!
انسان دوست اور بشر مرکز فلسفے اجنبی سے دکھائی دینے لگے ہیں۔ترقی پسندی کی متوازی اور متوازن فکر کو ذرائع ابلاغ پر محدود تر کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔دوسری طرف مذہبی احیاپسندی(Revivalism)اب خالص پرستی(Puritanism)کی شکل میں آکر غیر منطقی، غیر سائنسی اور یک رُخی سوچ کے ذریعے تو ہمّاتی طرزِ فکر اور تقدیر پرستی کو پھر سے بڑھاوا دے رہی ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں انسان دوستی اور ترقی پسندی کو ایک طرف مذہبی تنگ نظری اور انتہا پسندی سے خطرہ ہے تو دوسری طرف سرمایہ دارانہ استحصال اور شرف و دولت کی غیر انسانی غیر مساوی تقسیم کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہوجانے سے بھی خطرہ پیدا ہوا ہے۔اس کے نتیجے میں غربت کے پھیلاؤ میں تو اضافہ ہوا ہی ہے، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سوچ سیاسی و سماجی رویّوں میں بھی در آئی ہے۔
ادب میں بھی کم و بیش متذکرہ بالا صورت حال ہے۔ تخلیقی عمل کی ماورائیت، پراسراریت اور’’لاشعوریت‘‘کے پردے میں ادب کے سماجی کردار کی یکسر نفی کی جارہی ہے۔ ادب کو الفاظ کے الٹ پھیر اور لایعنی، بے معنی اظہار سے مخصوص قرار دے کر سماجی عمل سے الگ کرنے کی کوشش ہوئی۔ادیب کی سماجی ذمّہ داری پر سوالیہ نشان لگایا گیا۔ معنی کو، ملتوی کرنے کے نام پر، مسترد کیا جارہا ہے۔ ادب کو پرکھنے کے ایسے پیمانے وضع کیے جارہے ہیں جن میں سے اجتماعی انسان نکل جاتا ہے۔ ان پیمانوں کی وسیع پیمانے پر تشہیر جاری ہے۔ادب کو تبدیلی کے ذریعہ کے طور پر قبول کرنے میں بہت پیش و پس ہوئی۔کوشش یہ تھی کہ اس طاقتور عامل کو بے اثر کیا جائے۔ ادب سے سماجی انسان کو منفی کرنابہت بڑا ادبی سانحہ ہے۔ انسان۔۔۔جوادب تخلیق کرتا ہے، انسان۔۔۔جس کے لیے ادب تخلیق ہوتاہے۔ انسان۔۔۔جس کے خوابوں کا بیانیہ، خواہشوں کا اعلامیہ، اُمنگوں کا ترانہ اور جذبوں کا آئینہ ہی ادب ہوتاہے۔ادب۔۔۔جس نے انسان کے دل کی دھڑکن میں ڈھلنا اور خوں کی روانی میں چلنا ہوتاہے، اُسی میں سے انسان کی اجتماعی سوچ کو منفیکیا جا رہاہے۔ہر جانب یہ ہاہا کار مچی ہے کہ دیکھنا، کہیں شاعر ادیب کوئی مقصدی بات نہ کر جائے۔ اِدھر اُس نے شکایت کی،اُدھرنظریے کا لیبل چسپاں ہوگیا۔بہت سے لوگ ادب و شاعری میں مزدور دہقان کے ذکر ہی سے چیں بجبیں ہوجاتے ہیں۔شاعر ادیب کو معاشرے کی آنکھ کہنے والے بھی چاہتے ہیں کہ سماجی ناہمواری پر نظر نہ پڑنے پائے۔ورنہ نظریے کا طعنہ تیار ہے۔یہ بھی بھلا دیا جاتا ہے کہ شاعر ادیب ساحسّاس فرد منفی معاشرتی صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ قطع نظر اس کے کہ ترقی پسند فکر، شعراء و ادباء کے وسیع تر حلقے میں سرایت کرچکی ہے اور غیرترقی پسند ادیبوں کے ہاں بھی خالص ترقی پسند فکر پر مبنی تخلیقات مل جاتی ہیں، چند نقّاد داخل و باطن کا ڈھنڈورا پیٹتے نظر آتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ داخل بھی درحقیقت ہمارے خارج سے متعیّن ہوتا ہے۔داخلیت جو تخلیق میں راہ پاتی ہے اُس کا بڑا حصّہ خارج سے کشید ہوکر آیا ہوا ہوتا ہے۔
دنیا کی ہر بڑی شاعری، بڑے فکری عناصر کے باعث بڑی قرار پائی ہے۔ ایک مربوط فکر کے ذریعے تبدیلی کی خواہش ادب کا وظیفہ رہی ہے اور بالکل جائز وظیفہ۔فنکار یہ سمجھ کر فن پارہ تخلیق کرتا ہے کہ وہ دنیا کی کوئی کمی پوری کر رہا ہے یا دنیا کو پہلے سے زیادہ خوبصورت بنا رہا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ادیب و شاعر موجودہ و حالیہ دنیا سے دانشورانہ اختلاف کرے۔اس اختلاف کے لیے بیدار ذہنی اور حریّتِ فکر کے ساتھ ساتھ انفرادی زاویہ بھی خام مواد مہیّا کرتا ہے۔جہاں عام لوگ سماج کے رٹائے ہوئے جملے رٹتے ہیں وہیں خاص لوگ اپنے منطقی طرزِ فکر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔
ساحر لدھیانوی ایسا ہی ایک بیدار مغز شاعر ہے۔ اُس کے فکری اجزا باہم دگر مربوط اور یکسر انسان دوست بنیادوں پر استوار ہیں۔اُس کی شاعری میں سماج اور سماجی رشتوں کا شعور بہت واضح اور نکھرا ہوا نظر آتا ہے۔وہ اپنی شاعری میں سماجی عوامل اور پیداواری رشتوں سے معاملہ کرتا ہے اور ایک مثبت تبدیلی کی خواہش کرتا دکھائی دیتا ہے۔
زندگی اپنے اندر ہر دم تبدیل ہوتی ایک پیچیدہ اور مرکّب صورتحال رکھتی ہے۔جدلیاتی مادیت یا پیداواری رشتوں کی وساطت سے زندگی کے عمل کو سمجھنے کا ایک منطقی زاویہ فراہم ہوتاہے۔ ترقی پسند فکر منطقی ہے اور مساویانہ انسان دوستی پر مدار رکھتی ہے۔یہ فکر، مذہبی طرز فکر کے برخلاف، ارتقاء پذیر اور تبدّل پسند ہے جبکہ مذہبی طرزِ فکر جامد رہتی ہے۔ اسی بنا پر ساحر لدھیانوی کے فکری عناصر میں ترقی پسندی، روشن فکری، انسان دوستی اور رومانویت نمایاں ترین ہیں۔
ساحرؔ سمیت کئی ترقی پسند ادباء پر فنّی تقاضوں کے حوالے سے بات اُٹھتی ہے۔فنّی تقاضوں کی پاسداری کا مقصد اپنی بات کو مؤثر اور دلنشیں کرنا ہی ہوتاہے۔زبان اور اس کے اظہاری سانچوں کی توسیع دراصل مواد کی بہتر ترسیل اور تفہیم کے کام آتی ہے۔فن بجائے خود بات کا حُسن ہے جو پڑھنے یا سننے والی کی حسِّ جمالیات کی تسکین کرتا ہے۔جو لوگ زبان کے نئے اظہاری پیمانے وضع کر رہے ہیں وہ دراصل بڑی فکر کی تخلیق کے پہلے مرحلے کا حصہ ہیں۔ سو اگر کسی کے پاس صرف فن ہے اور فکر عنقا۔۔۔تو وہ یہ جان لے کہ وہ بڑی فکر کے لیے زمین ہموار کر رہا ہے۔۔۔اور یہ بھی بڑی خدمت ہے!لیکن اس سے بھی بڑی بات ہے فکر اور فن کا متوازن امتزاج۔۔۔جیسا کہ ساحرؔ کی بیشتر شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔
اگر پیغام کو جان بوجھ کر شجر ممنوعہ نہ بنا لیا جائے تو پیغام فن میں Intrinsicallyشامل ہوتا ہے یعنی شعر میں(فن میں)خلقی طور پر ہوتا ہے۔ساحر لدھیانوی کی شاعری میں پیغام گُندھا ہوا، گُھلا ہوا ہے۔مربوط اور واضح ہے۔شاعر کا ایک ورلڈ ویو ہے جو شاعری میں غیر مبہم انداز میں اظہار پاتا ہے۔ اس غیر مبہم انداز نے ساحرؔ کی شاعری کو ایک واضح سمت دی ہے اور اس میں ایک انوکھی دلیذیری اور اثر پذیری پیدا کی ہے۔یہاں یہ بات بہت ضروری ہے کہ ساحرؔ نے فنّی تقاضوں کو ملحوظ رکھّا۔اس نے ایسا ایک توازن دریافت کرلیا تھا جس میں مواد اور ہےئت، فن اور پیغام، اُس نکتۂ اتصّال پر رہتے ہیں کہ خلقِ حُسن اور خلقِ معانی بیک وقت ممکن ہوجاتاہے۔کسی ایک طرف بھی توازن بگڑنے سے افراط و تفریط پیدا ہوتی ہے۔ساحرؔ کا بیشتر کلام اس افراط و تفریط سے محفوظ رہا۔اُس نے شاعری کی حُسن آفرینی، تخلیقیت، موسیقیت اور تلازمہ کاری کو بہت مہارت سے استعمال کیا۔
اپنی نظموں اور غزلوں میں ساحرؔ نے گہری فکر اور دانشورانہ سچائی کو دلکش شاعری میں پیش کیا ہے۔ وہ انسانی دکھوں کا نبّاض بھی ہے اور مسیحا بھی۔وہ زبان کی لچک، گہرائی اور گیرائی کو تخلیقی انداز میں بروئے کار لایا ہے۔ یہ تو سب کہتے ہیں کہ ساحرؔ کی شاعری میں رومان اور انقلاب باہم آمیخت ہوئے ہیں۔ لیکن اہم تر بات یہ ہے کہ ہر دو، اُس کی گہری ذاتی واردات کے آئینے میں منعکس ہوتے ہیں۔وہ سماجی محرومیوں اور گھریلو ناانصافیوں کا شاہد بھی ہے شکار بھی۔اس لیے ساحرؔ کا کلام درد آفرینی کے ساتھ ساتھ دروں بینی کا ذائقہ بھی رکھتا ہے۔وہ عقائد، رسوم اور سماجی عوامل کو اپنی ذات اور پھر سماج کے حوالے سے پرکھتا دکھائی دیتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں تقدّس کو تمدّن کا فریب
تم رسومات کو ایمان بناتی کیوں ہو
میں تصّوف کے مراحل کا نہیں ہوں قائل
میری تصویر پہ تم پھول چڑھاتی کیوں ہو

فطرت کی مشیّت بھی بڑی چیز ہے لیکن
فطرت کبھی بے بس کا سہارا نہیں ہوتی

حقیقت آشنائی اصل میں گم کردہ راہی ہے
عروسِ آگہی پروردۂ ابہام ہے ساقی

زندگی فطرتِ بے حس کی پرانی تقصیر
اک حقیقت تھی مگر چند فسانوں میں کٹی

حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے
اُداس کیوں ہو جو کچھ خواب رائگاں نکلے

دامنِ وقت پر اب خون کے چھینٹے نہ پڑیں
ایک مرکز کی طرف دیر و حرم لے کے چلو

ہوکر خرابِ مے ترے غم تو بھلا دئیے
لیکن غمِ حیات کا درماں نہ کرسکے
ساحر لدھیانوی کے سماجی شعور نے مذہب اور مذہبی اداروں کو استحصالِ انسانی کے ایک اوزار کے طور پر دیکھا۔وہ کسی عقیدے کے نام پر فکرِ انسانی کو مقیّد کرنے کے حق میں نہیں تھا۔وہ دانشورانہ سطح پر مذہب کی غیر عقلی بنیادوں اور سماجی سطح پر مذہبی اداروں کے استحصالی کردار کورد کرتا ہے۔
بیزار ہے کنشت و کلیسا سے اک جہاں
سوداگرانِ دین کی سوداگری کی خیر
ابلیس خندہ زن ہے مذاہب کی لاش پر
پیغمبرانِ دہر کی پیغمبری کی خیر
انساں اُلٹ رہا ہے رُخِ زیست سے نقاب
مذہب کے اہتمامِ فسوں پروری کی خیر
الحاد کر رہا ہے مرتّب جہانِ نو
دیر و حرم کے حیلۂ غارت گری کی خیر
ساحرؔ کے پاس اعلیٰ درجے کی نظموں کی کوئی کمی نہیں۔اُس کی کئی نظمیں جدید نظم گوئی کے تقاضے بھی پورے کرتی ہیں۔حالانکہ جس وقت ساحرؔ نظم کہہ رہا تھا، ترقی پسند شاعری ایک الگ ڈھنگ اپنا رہی تھی۔اس کے باوجود اُس نے بات کہنے کے نئے ڈھب کو درخور اعتنا جانا۔ اُس کی نظمیں دیر اور دور تک گئی ہیں۔ اس کے بہت سے(اور واقعی بہت سے) مصرعے اور اشعار ہمیشہ زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
غمِ حیات، غمِ یک نفس ہے، کچھ بھی نہیں
وفا فریب ہے، طولِ ہوس ہے، کچھ بھی نہیں
ساحر کی نظمیں ایسے اشعار اور مصرعوں سے مالا مال ہیں۔اُس کی نظم’’شکست‘‘میں شدّتِ احساس، روانی اور ڈکشن کی امارت دیدنی ہے تو’’کسی کو اُداس دیکھ کر‘‘میں غمِ دوراں اورغمِ جاناں،امیجری کی سطح پر ہم آہنگ ہوئے ہیں۔
’’گریز‘‘میں نادر تراکیب، پیوست قوافی اور بصری تمثالوں کے ساتھ مصرعوں کی چُست بندش اُس کی فنکاری پر دال ہیں۔
نظم’’شہزادے‘‘میں انگریزوں کی برصغیر آمد، اُس وقت کے حکمرانوں کی کاہلی پر مختصر مگر جامع طنز ہے۔’’بنگال‘‘میں قحط کو بڑے ہی مؤثر انداز میں شاعری(اور خالص شاعری) میں درمندی سے نظم کیا گیا ہے۔
’’آؤ کہ کوئی خواب بُنیں‘‘،’’ورثہ‘‘،’’نَے میں کچھ نہیں‘‘،’’نادار تک نہیں پہنچا‘‘سمیت کئی نظمیں ہیں جو نظم نگاری کے جدید پیمانوں پر کماحقہ پوری اترتی ہیں۔ان نظموں میں فن اور فکر باہم یک جان ہوگئے ہیں۔اُس کی ایک روایت شکن اور غیر معمولی نظم’’تاج محل‘‘ہے۔اس نظم نے عوام کے سوچنے کا ڈھب بدل دیا۔بے وقعت انبوہِ کثیر نے سوچا کہ کسی تاریخی واقعے، کسی فن پارے یا(مذہب سمیت)کسی بھی بیانیے کو عوامی زاویے سے کیسے دیکھاجاسکتا ہے۔اور ایسا کرنے سے اُس کے معانی کس طرح یکسر بدل جاتے ہیں۔
یہ نظم بالکل نئے زاویے سے،عوامی سمت سے اسی تاج محل کو یوں دکھاتی ہے۔
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق
نظم میں عوام کو بتایا گیا ہے کہ وہ سطوتِ شاہی کے نشانوں سے پیار باندھنے کی غلطی نہ کریں۔ظلِّ سبحانی کے کاموں میں عوام کا کیا مذکور۔یہاں مجھے (غالباً) تزکِ بابری میں مذکور زلزلے کا بیان یاد آتاہے جس میں فقط شہر پناہ میں دراڑ پڑنے اور ظلِّ الٰہی کے گھبرا کر باہر نکلنے کا ذکر ہے اور پھر شہر پناہ کی تعمیر و مرمّت کا بھی۔ اگر ذکر نہیں ہے تو اس شدید زلزلے میں مرنے والے عوام کا نہیں ہے۔شہنشاہوں کو اس سے کیا غرض!!یہ جو عوامی طرف(Side)سے ہر تاریخی واقعے کو دیکھنے کا چلن ہے، اب یہ گلی گلی عام ہوچکا ہے۔اس عہد میں تو قدیمی بیانیوں کو خالصتاً عوامی نکتۂ نظر سے پرکھا جارہا ہے۔۔۔اور بہت سے بت شکن نتائج سامنے آرہے ہیں۔سوچ کا یہ ڈھنگ ترقی پسند فکرکی دین ہے، ساحر جس کاعلم بردار تھا اور اب یہی سوچ’’فکرِ گلستاں‘‘ٹھہری ہے!!
اُس کی طویل نظم’’پرچھائیاں‘‘ذوالبحرین ہے۔وحدتِ فکر، تسلسلِ خیال اور نامیاتی اکائی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ساحرؔ نے بڑا خیال، بڑی نظم میں پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں اکثر جدید طویل نظمیں ریزہ خیالی اور انقطاعِ تسلسل کے ہاتھوں اپنی اثر آفرینی کھو بیٹھتی ہیں۔
ساحرؔ نے شاعری کے لیے جو زبان منتخب کی وہ اپنے اندر کئی شیڈز(Shades)رکھتی ہے۔غزل میں غزل کے مزاج اور لہجے کے عین مطابق زبان برتی۔ آزاد و پابند نظم میں سمعی وبصری امیج اور علامت و استعارے سے فائدہ اُٹھایا۔گیتوں، انقلابی نظموں اورعوامی نغموں کے لیے لوکائی کی زبان منتخب کی۔جس میں ہندی، پنجابی کے رسیلے اور اُردو کے عام فہم، موسیقیت سے لبریز الفاظ کا جادو جگایا۔ گیت کے ان محض دو مصرعوں میں ساحر کا فن ملاحظہ ہو۔
کیے لاکھ جتن، مورے من کی تپن، مورے تن کی جلن نہیں جائے
کیسی لاگی یہ لگن، کیسی جاگی یہ اگن، جیا دھیر دھرن نہیں پائے
ساحرؔ نے گیت کو بطور ادبی صنف برتا۔ ان تمام شعری لوازم کو ملحوظ رکھا جو کسی شعری تخلیق کا حُسن ہوتے ہیں۔(مثال کے لیے’’دو بوندیں ساون کی‘‘ملاحظہ ہو)یہی وجہ ہے کہ سالہا سال گذر جانے کے باوجود اُس کے گیت سدا بہار ہیں۔ لاکھوں کروڑوں دلوں میں بجتے ہیں۔ساحر کی گیت نگاری کے ساتھ ساتھ اگر آج کے فلمی وغیر فلمی گیتوں کی شاعری کو دیکھا جائے تو ساحرؔ کی عظمت اُجاگر ہوتی ہے۔
جو تار سے نکلی ہے وہ دھن سب نے سُنی ہے
جو ساز پہ گذری ہے وہ کس دل کو پتا ہے
ساحرؔ نے برِہا کے گیتوں کو ایک عجیب درد دیا ہے،ملن کے گیت انوکھی سرشاری میں بھیگے ہوئے ہیں۔ اُس نے ممتا سے بھرے گیت، بچوں کے لیے گیت، دیس پیار، نسلِ انسانی کی ایکتا اور انقلاب کے لیے گیت لکھے اور سب میں ادبی حُسن کو برقرار رکھا۔
ساحرؔ کی شاعری ارتقا پذیر رہی۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اُس کے نقطۂ نظر میں زیادہ بلوغت اور شعری مزاج میں زیادہ دھیرج نظر آتا ہے۔آزادئ برّصغیر کے بعد وہ اپنی حکومت کا ناقد بھی رہا۔ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد بھی عوام کے حق میں،حکومتوں کے خلاف آواز اُٹھاتا رہا۔اُس کی عوام دوستی اورجرأتِ اظہار پر کبھی قدغن نہ لگ سکی۔ پھر اُس کی آتش نوائی میں ایک ذمّہ دارانہ اعتدال پیدا ہوتاہے۔ وہ سماجی ذمّہ داری کے نکھرے ہوئے تصوّر کے ساتھ تعمیر، امن، اخوت اور وسیع المشربی ایسے خیالات نظم کرتاہے۔(نظم’’ورثہ‘‘ اور’’آؤ کہ کوئی خواب بُنیں‘‘)۔وہ تمام مذاہب کے احترام کی بات کرتا ہے۔’’معاہدۂ تاشقند‘‘کی سالگرہ پر اُس نے بے مثال نظم’’اے شریف انسانو‘‘لکھ کر برّصغیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ ایک ذمّہ دار سماجی سائنسدان کی طرح، احتجاج میں عوامی خدمات کا نقصان کرنے کو قوم کا نقصان قرار دیتا ہے۔ وہ عوامی شعور یوں جگاتا ہے ۔
اہلِ منصب ہیں غلط کار، تو اُن کے منصب
تیری تائید سے ڈھالے گئے، تُو مجرم ہے
میری تائید سے ڈھالے گئے،میں مجرم ہوں
ساحر لدھیانوی کی شاعری اپنے موضوع کے اعتبار سے عصرِ رواں سے متعلق ہی رہتی ہے۔وجہ یہ کہ آج کے حالات کے تناظر میں اُس کی انقلابی و سیاسی شاعری بھی بھرپور معانی دیتی ہے جبکہ اُس کی رومانوی اور فکری شاعری تو ہے ہی گردشِ مہ وسال سے بالا۔
اس کی ایک مختصر نظم’’بڑی طاقتیں‘‘ملاحظہ ہو۔
تم ہی تجویزِ صلح لاتے ہو
تم ہی سامانِ جنگ بانٹتے ہو
تم ہی کرتے ہو قتل کا ماتم
تم ہی تیر و تفنگ بانٹتے ہو
اب اہلِ نظر ہی بتائیں کہ یہ نظم آج کی سُپرپاور سے متعلق ہے یا نہیں۔ اسی لیے مجھے اصرار ہے کہ ساحرؔ کی بہت سی شاعری گردشِ لیل و نہار کو توڑ کر زمان و مکاں میں رواں ہوچکی ہے اور ہمیشہ شاعری کا حصّہ رہے گی۔
ساحرؔ کی شاعری کی عوام میں پذیرائی کی دلیل لانے کی کوئی حاجت نہیں۔اخبارات، جرائد، کالم، رسائل، تقاریر اور گفتگوؤں میں ساحرؔ کا کلام برمحل اور برموقع سجایا جاتاہے۔ اُس کے اشعار، ترسیلِ شعر کے تازہ ترین وسیلے SMSکے ذریعے سے بھی چل رہے ہیں۔لوگ اب تک اس کے شعر سے وابستہ و پیوستہ ہیں، کیوں؟اس لیے کہ وہ کسی خیالی دنیا کی نہیں، انسانوں کے اِردگرد کی حقیقی دنیا کی بات کرتاہے۔ اس حقیقی دنیا کی تمام قباحتوں کے ساتھ۔جب تک انسان کے ہاتھوں انسان کااستحصال رہے گا، جب تک وسائل و شرف کی غیر مساویانہ، غیر منصفانہ تقسیم رہے گی، ساحرؔ اور اُس کاکلام متعلق بہ عہد رہے گا۔ساحرؔ نے کہا تھا:
کل کوئی مجھ کو یاد کرے، کیوں کوئی مجھ کو یاد کرے
مصروف زمانہ میرے لیے کیوں وقت اپنا برباد کرے
اُس کو مبارک ہو کہ زمانہ تو واقعی بہت مصروف ہوگیا ہے لیکن پھر بھی اُسے یاد رکھے ہوئے ہے کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ ساحرؔ کو یاد رکھنا اور یاد کرنا وقت کو کار آمد بنانا ہے۔

(انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیر اہتمام لاہور میں منعقدہ ساحرؔ سیمینارمیں پڑھا گیا۔)

شہزاد نیرّ

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.