487 Views

السلام علیکم معزز قارئین
انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی ادبی ویب سائٹ پر خوش آمدید
میں ہوں میزبان رشنا اختر اور حاضر ہوں ایک دلچسپ انٹرویو کے ساتھ ۔ ہمارے آج کی مہمان ہیں شہزاد نئیر صاحب جو ادبی دنیا میں اپنا نمایاں مقام رکھتے ہیں اور شہرت کی بلندیوں پر ہیں تو چلیئے وقت ضائع کیے بغیر گفتگو کا سلسلہ شروع کرتے ہیں ۔

السلام علیکم! کیسے ہیں آپ ؟

وعلیکم السلام
اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں ۔

*کُچھ اپنے بارے میں بتائیے ۔

میرا نام شہزاد نئیر ہے ۔ گجرانوالہ سے تعلق ہے۔ میٹرک گجرانوالہ سے کیا ۔ ایف ایس سی کے لیے ایف سی کالج لاہور آگیا ۔ ایف ایس سی کے بعد میں نے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی ۔ دو سال کی تربیت کے بعد آفیسر بن کر آرٹیلری میں آگیا ۔

*باقاعدہ شاعری لکھنا کب شروع کی پہلی غزل جو بہت مقبول ہوئی۔

شعر و ادب کا تعلق سکول کے زمانے سے ہی جڑ گیا تھا ۔ ساتویں اور آٹھویں جماعت میں کچھ نہ کچھ لکھنے لگا تھا۔ نویں دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے میں کافی کچھ پڑھ چکا تھا جس میں ساحر لدھیانوی کی شاعری امرتا پریتم کی شاعری اور افسانے، ممتاز مفتی اور قراة العین حیدر ۔ ایف ایس سی کے دوران بھی پڑھتا رہا اس دوران الطاف حسین حالی کی کتاب مقدمہ شعر و شاعری پڑھی پھر کچھ انگریزی ادب پڑھا ۔ آرمی میں آنے کے بعد بھی مطالعہ کا شوق جاری رہا اور لکھنا بھی مسلسل برقرار رہا ۔ زمانہ طالب علمی میں ایک غزل لکھی تھی ۔

وہ جس دن کا مجھ سے جدا ہوگیا ہے
دریچہ مصیبت کا وا ہوگیا ہے

چلے جارہے ہیں میرے سارے اپنے
الٰہی یہ کیا ماجرا ہوگیا ہے

جو نخوت سے میری گلی میں وہ آیا

تو زخموں کا جنگل ہرا ہوگیا ہے

رہی زندگی میں نہ اب دلنشینی

کہ نیئر کا دل بر خفا ہوگیا ہے

یہ زیادہ مشہور تو نہیں ہوئی لیکن جو میری غزل زیادہ مشہور ہوئی

تو بنا کے مجھے پھر سے بگاڑ دے
مجھے چاک سے نہ اتارنا

*شاعری میں ایک نقطے میں پوری تاریخ سمٹی ہوئی ہوتی ہے موجودہ بے ربط کاپی پیسٹ شعراء کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گے؟

میں آپ کے اس سوال سے متفق ہوں کہ شاعری ربط کا نام ہے ، تنظیم کا نام ہے۔ اس میں چیزوں کو میچ کرنا پڑتا ہے یعنی جو آپ کے ذہن میں جو خیالات آتے ہیں انہیں کسی ترتیب ، حسن اور سلیقے کے ساتھ آنا چاہئیے ۔ ان دنوں ہمیں سوشل میڈیا پر ایسی شاعری بھی نظر آتی ہے جو بے ربط ہے جس میں تلازمہ کاری نہیں ہے ۔ خیالات بھی عامیانہ اور پست ہیں پھر ان کی بندش اور ادائیگی بھی ارفع نہیں ہے عامیانہ و سوقیانہ ہے ۔
ایسی شاعری کے بارے میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ شاعری ایک رفعت فکری کا نام ہے۔ شاعری ارفع خیالی کا نام ہے اور اس کے لیے جو زبان استعمال کی جاتی ہے وہ بھی اچھی اور عمدہ ہونی چاہیئے ۔ اگر شاعری میں بھی اسی طرح کے عامیانہ و سوقیانہ اور پست خیالات باندھنے ہیں جس طرح بازاروں میں بات چیت کرتے پھر رہی ہیں تو پھر یہ تہذیب و ثقافت کا سر چشمہ کیوں گردانی جاتی ہے ۔ شاعری نے تہذیب سکھانی ہوتی ہے۔ ادب و سیلقہ و قرینہ سکھانا ہوتا ہے ، شعور کی راہنمائی کرنی ہوتی ہے ، جذبات کی تہذیب کرنی ہوتی ہے اور خیالات و احساسات کو الفاظ میں بیان کرنا ہوتا ہے ۔ اس لیے شاعری کی زبان بہتر ہونی چاہیئے ۔ بے ربط اور کاپی پیسٹ قسم کی جو شاعری جس کا ذکر آپ نے کیا ہے اسے میں قطعاً پسند نہیں کرتا اور قارئین کو بھی اسے پسند نہیں کرنا چاہیئے ۔ اس کی بجائے معیاری ، عمدہ پُرلطف اور اعلیٰ شاعری کو پسند کرنا چاہیئے ۔

*جتنی گہری شاعری اتنے گہرے زخم کیا یہ درست ہے ؟

زندگی میں بہت زخم ملتے ہیں ۔ حساس طبیعت کے لیے تو جگہ جگہ
عبرت کی جاہ ہے۔
بقول میر

سرسری تم جہان سے گزرے
ورنہ ہر جاہ جہانِ دیگر تھا

چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتے ہیں دیواروں کے بیچ

مجھے تو لگتا ہے زندگی دراصل زخموں کا ہی ایک سلسلہ ہے ۔ کچھ زخم ذاتی ہوتے ہیں اور کچھ سماجی ہوتے ہیں اور کچھ کائناتی ہوتے ہیں ۔ اب کائناتی دکھ وہ تو ہونے کا دکھ ہے Existence کا ، وجودیت کا دکھ ہے جو ہر کسی کے ساتھ ہے۔ سماجی دکھ دیکھیئے کتنی اونچ نیچ ہے۔ ایک ہی وقت میں آپ دیکھتے ہیں کہ ایک بہت مہنگی گاڑی میں ، بہت مہنگے یونیفارم میں ایک بچہ سکول جارہا ہے اور اسی گاڑی کے ٹائر کی ہوا چیک کرنے والا بھی اسی کی عمر کا ایک بچہ ہے ۔ زخم تو بہت ہیں ایک طرف منوں ٹنوں کے حساب سے کھانا ضائع ہو رہا ہے اور ایک طرف کوڑے کے ڈھیر سے بچے ہڈیاں چن رہے ہیں ۔ زخم تو زندگی کا حصہ ہیں بس یہ کہ طبعیت حساس ہونی چاہیئے ۔ پھر ذاتی زخم بھی ہوتے ہیں ۔ کسی کی بے وفائی ، کسی کا تغافل ، محبوب ، گھر ، بچے، رشتے ہر طرف سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے جسے آدمی دکھ کے خانے میں رکھ لیتا ہے ۔ تو شاعری کیا ہے ؟ شاعری صرف دکھوں کا بیانیہ نہیں ہے زندگی کا بیانیہ ہے اور زندگی میں دکھ بھی ہیں ۔ زندگی کو جمالیاتی آنکھ سے ، حساسیت کی آنکھ سے ، انسان دوستی کی آنکھ سے اور محبت کی آنکھ سے دیکھنے کا نام شاعری ہے ۔ میرے خیال میں میرا جواب مکمل ہے کہ شاعری میں دکھ ہوتے ہیں؟ ہاں ! جتنا گہرا زخم اتنی گہری شاعری

*ادب کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں ؟

ادب ہر عہد میں موجود رہا ہے ۔ ایک عہد تھا اس کا جو بنیادی علاقہ تھا ۔ ادب کے ساتھ جو بنیادی تعلق تھا ۔ علاقہ کا معانی تعلق بھی ہوتا ہے علاقہ کا لفظ تعلق ہی سے نکلا ہے ۔ ادب کا جو بنیادی تعلق تھا جو اشرافیہ طبقہ تھا اس کے ساتھ تھا ۔ شاعری کی سر پرستی بھی نواب ، راجے ، مہاراجے کیا کرتے تھے اور شعراء ان کے دربار سے وابستہ ہوتے تھے ۔ وہ جو پڑھا لکھا طبقہ جو کم تعداد میں ہوتا تھا اسی کے اندر شاعری پڑھی جاتی تھی اور مقبول ہوتی تھی لیکن جوں جوں عوامی دور آیا عوام تک شاعری گائیکی کی شکل میں پہنچی ۔ سماعت کی روایت ، ہمارے ہاں مشاعرے کی روایت ہے ۔ اس کے ذریعے پہنچی اور عوامی طبقات میں بھی مقبول ہوئی ۔ آج کل کے دور میں ادب کے فروغ کے لیے بہت کچھ ہے۔ سوشل میڈیا کے چھے، سات ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارم ہیں جہاں پر آپ کو ادب ملتا ہے ۔ کتابیں چھپوانا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ ان زمانوں میں مسئلہ تھا جب کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں چھاپہ خانہ نہیں ہوتا تھا ۔ اب تو بڑے آرام سے کتابیں چھپ رہی ہیں رسائل و جرائد چھپ رہے ہیں ۔ ریڈیو ٹیلیویژن کے ذریعے بھی ادب فروغ پا رہا ہے ۔ اس وقت جو زیادہ ضرورت ہے وہ ادب کو اپنی منہاج پر قائم کرنا اور اس کے معیار کو زیادہ اونچا کرنا یہ ضروری ہے ۔
فروع کی جہاں تک بات ہے تو ایک بے وزن کلام کوئی پڑھ دے اپنی آواز میں یا ویڈیو اچھی بنائے اور لڑکا یا لڑکی خوش شکل بھی ہو تو اس کے ویوز ملین میں چلے جاتے ہیں حالانکہ وہ کلام تکنیکی اعتبار سے درست نہیں ہوتا یعنی وزن نہیں ہوتا ۔ اب حکومتی ادارے بھی ادب کے فروغ کے لیے کام کررہے ہیں اکادمی ادبیات اور مقتدررہ قومی ادبیات ہے۔ پنجاب میں مجلسِ ترقی ادب ہے۔ سندھ میں قومی ادارہ قومی زبان ہے ۔ فروغ تو ملتا ہی رہتا ہے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ادب کو اس معیارات پر قائم کریں اور عوام کے ذوق کی اس طریقے سے تربیت کریں کہ اعلیٰ ادبی معیارات کو فروغ حاصل ہو ۔

*شعراء کی زندگی اکثر کسمپرسی میں گزرتی ہے کیا یہ اچھی شاعری کے لیے ضروری ہے اگر ایسا ہے تو ہر مفلس اور صاحب زر شاعر کیوں نہیں ؟

یہ بات بہت پہلے کی اور بہت پرانی ہے تقریباً سو دو سو سال پہلے کی بات ہے ۔ آج کل ایسا تو کوئی شاعر نہیں نظر آتا جو صرف شاعری سے اپنا گزارہ کرتا ہو۔ ایک منیر نیازی تھے اور شاید آج کے دور میں کوئی ایک آدھ ہو لیکن زیادہ تر شعراء ایک کثیر تعداد میں شعراء کسی اور پیشے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری ان کا مسئلہ ہے زندگی بھر شاعری کرتے ہیں لیکن روزگار کسی اور شعبے سے وابستہ ہے ایسے لوگ زیادہ ہیں بہت کم لوگ ہیں جو شاعری سے اپنا رزق کماتے ہوں اور وہ بھی صرف وہی کماتے ہیں جو کما پاتے ہیں ظاہر ہے مشاعروں کا دور ہے سوشل میڈیا کا دور ہے یوٹیوب سے بڑی کمائی ہوجاتی ہے باقی پلیٹ فارم سے بھی کمائی ہوجاتی ہے تو ایسے لوگ کم ہیں ۔
اقبال ساجد ایک شاعر تھے انہوں نے کسمپرسی کی زندگی گزاری ۔ ساغر صدیقی نے بی کسمپرسی کی زندگی گزاری ۔ ضروری نہیں ہے کہ شاعر غریب ہو معاشی سطح کے مطابق اچھا شاعر ہو سکتا ہے ۔ احمد ندیم قاسمی نے ایک مناسب سی زندگی گزاری لیکن شاعری میں بہت نام کمایا ۔

*فرصت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں ؟

جب سروس میں تھا جتنا وقت میسر آتا تھا شعرو ادب میں صرف کرتا تھا اور ٹیلی ویژن دیکھتا تھا ۔
ملازمت کے بعد فیملی کو وقت دیتا ہوں اور شعرو شاعری کرتا ہوں ۔
موبائل فون بہت وقت لے جاتا ہے اس پر بھی ادبی کاموں میں مصروف رہتا ہوں۔ رات کو مطالعہ کی عادت برقرار ہے اس دوران موبائل فون آف ہوتا ہے ۔

*زندگی کا دیا ہوا کوئی سبق جو ابھی تک کار آمد ثابت ہوا ہو ؟

مال و دولت ، زر پیسہ یہ خوشیوں کی ضمانت نہیں ہے ۔ زندگی میں ایسے ایسے امراء دیکھے ہیں جو بہت پریشان رہتے ہیں ۔ ایسے متوسط یا غریب لوگ دیکھے ہیں جو خوشی خوشی زندگی گزارتے ہیں ۔ پیسے کے لیے لوگوں کو اپنی صحت خراب کرتے دیکھا ہے وہی پیسہ پھر صحت بحال کرنے پر لگاتے ہیں ۔ پیسوں سے زیادہ اہم چیزیں موجود ہیں مثلاً رشتے ، آرٹ، فنون اور دوسرے کا خیال ۔
پیسے کی دوڑ میں شریک نہیں ہونا کارپوریٹ ورلڈ کی یہ بہت بڑی سازش ہے وہ ہمیں برینڈ کانشئس کرکے زیادہ کمانے کی ترغیب دیتے ہیں کہ زیادہ کماؤ تاکہ زیادہ خرچ کر سکو ۔ خواہشات کو توازن اور اعتدال میں رکھیں ۔ ضروریات اور ہوتی ہیں خواہشات اور ہوتی ہیں ۔ خواہشات کو ہائی لیول تک نہ پہنچاؤ ضروریات پر توجہ مرکوز رکھو باقی وقت رشتوں اور خوشیوں پر صرف کرو ۔

*لوگوں کے بارے میں کیا راۓ ہے ؟ موجودہ معاشرہ کس قسم کا ہے ؟

ایک عمومی روش جو میں نے دیکھی ہے کہ ہمارے ہاں تین چار چیزیں بڑی تیزی سے کم ہوگئی ہیں ۔ ایک اپنی بات کا پاس دوسرا خود سے بڑھ کر دوسرے کو اہمیت دینا ۔ ہر کوئی اپنی خود غرضی میں مبتلاء ہے کہ میرا کچھ بن جائے دوسرے کو دھکا مار کے خود آگے بڑھ جائے ۔ تیسری وعدہ خلافی ۔ چوتھی ان سب سے بڑی دھوکہ دہی ۔ دھوکے کی بڑی قسمیں ہوتی ۔ اگر کسی کاریگر سے کسی مشین کا نیا پرزہ تبدیل کروایا تو اس نے بازار سے چارگنا زیادہ قیمت وصول کی ۔ بعض لوگ خود کو مظلوم و مسکین ظاہر کرکے بھی مالی امداد حاصل کرتے ہیں جب تحقیق کی جاتی ہے تو حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے ۔ میرا ایک قریبی دوست تھا ۔ وہ پنجابی شاعر تھا ۔ ایک دن مجھے فون کیا اور بڑی تھکی تھکی آواز میں کہنے لگا شہزاد یار میں سخت بیمار ہوں کچھ کیجئے ۔ میں نے مدد کی یقین دہائی کرائی ۔ اب اس شخص کے قریبی دوست کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیمار نہیں ہے اس نے پیسے بٹورنے کے لیے کئی لوگوں کو ایسے دھوکہ دیا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں دھوکہ بہت بڑھ گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ میں اپنے معاشرے کے اخلاقی معیارات سے اور معاشرتی چال چلن سے ، سچائی کے جو پیمانے ہیں ان سے بالکل مطمئن نہیں ہوں لوگوں میں اچھا کردار نایاب ہوتا جارہا ہے ۔

*معیار کا کوئی پیمانہ ہوتا تو کیا ہوتا ؟
شعری و ادبی معیار دو تین باتوں سے طے پاتا ہے ایک تو یہ کہ جن خیالات کا آپ اظہار کر رہے ہیں وہ کتنے آفاقی یا عالمگیر ہیں زیادہ سے زیادہ کتنے لوگوں کو وہ اپنے خیالات لگتے ہیں ۔ کتنے لوگ اس پر ریسرچ کرتے ہیں کہ واہ کیا نقطہ بیان کیا ہے ۔ یہ موضوع کے متعلق معیار کہلاتا ہے ۔ شعر و ادب میں زبان ہمارا اوزار ہے ۔ زبان کو کتنی وسعت دی ہے ۔ زبان کو کتنا تخلیقی انداز میں استعمال کیا ہے ۔ کتنی درستی سے استعمال کیا اور بڑے مطالب اور مفاہیم کتنی جامعیت کے ساتھ شعری یا ادبی تخلیق میں سمو دیئے ہیں ۔ تیسرا معیار یہ ہے کہ کسی تخلیق میں زمان و مکان میں کتنا سفر کیا ۔ زمان سے مراد زمانہ یعنی کتنے سو سال نسل انسانی کے ساتھ متعلق رہی مثلاً شیخ سعدی ، مولانا روم اور شیکسپیئر کب تھے ؟ اب تک ایسے لگتا ہے کہ وہ ہمارے عہد کے متعلق ہیں ۔ زمان کے بعد آتا ہے مکان سے مراد کہ ادب پارہ یا ان کے لکھنے والے کا تعلق کہاں سے ہے تو یہ چند ادبی معیار ہیں ۔ جو چیز زمان و مکان میں جتنی دیر چلتی ہے وہ اتنی ہی اہم سمجھی جاتی ہے ۔

*آپ کی شائع شدہ کتب کے نام ؟
پہلی نظموں کی کتاب برفاب 2006 میں شائع ہوئی ۔ اس قبل ادبی رسائل جرائد میں کلام شائع ہوتا رہا۔ کتاب کو انگلستان میں پین انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا ۔نظموں اور غزلوں کی کتاب چاک سے اترے وجود 2009 میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کو پروین شاکر ایوارڈ نوازا گیا ۔ نظموں کی کتاب گرہ کھلنے تک اور پھر اس کے بعد 2018 میں کتاب خابشار شائع ہوئی اس طرح شاعری کی چار کتب شائع ہوچکی ہیں ۔
2024 میں مائکرو فکشن کا مجموعہ شائع ہوا کہانی چل رہی ہے۔

*موجودہ دور اسٹیٹس کا دور ہے ہاتھ میں آئی فون ہے اور بات کرنے کی تمیز نہیں ایسے لوگوں کے لیے چند جملے ۔

یہ وہ نو دولتیے ہیں جنہیں تہذیب و تمدن سے کوئی لگاؤ نہیں اور مہنگی گاڑی، مہنگے فون اور مہنگے کپڑے کو ہی زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اگر پیسہ ہے دولت ہے ساتھ ہی اس میں عاجزی ہے خلق خدا کی بہتری کا خیال ہے انداز شائستہ ہے چلو پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر بات کرنے کی تمیز بھی نہیں ہے محض اپنی مہنگی گاڑی مہنگی گھڑی اور مہنگے فون پر ہی اتراتا پھر رہا ہو ایسے لوگوں سے تو میں دور بھاگنا ہوں لیکن ایک ضروری بات بتاؤں کہ جس شخص کو اپنے عہدے کا غرور ہو یا اپنے پیسے کا غرور ہو اس کے ساتھ میں دس منٹ بھی نہیں چل سکتا نہ گفتگو کر سکتا ہوں ۔ الگ ہو جانا ہٹ جانا ہی اس کا علاج ہے ۔
*آپ کے مطابق اگر زندگی کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جاۓ تو وہ جملہ کیا ہوگا ؟

زندگی تجسس ہے ۔
میرے نزدیک تجسس زندگی کا سب سے بڑا جذبہ ہے ۔ اس میں سائنسی تجسس یہاں تک کہ جب آپ کسی کے ساتھ تعلق یا رشتہ باندھتے ہیں تو تجس ہوتا ہے کہ وہ کیسے مزاج ، پسند ناپسند کا حامل ہے تو یہ تجسس ہے جو لے کر چلتا ہے ۔ ایک نظم بھی میں نے کہی تھی کہ

جب تلک یہ تجسس رہے گا
تعلق رہے گا

*اب تک کتنے ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں ؟

2 : صوفی غلام مصطفٰی تبسم ایوارڈ
3 : فیض امن ایوارڈ
4 : ایوان ِ اقبال ایوارڈ دُبئی
5 : پروین شاکر عکس خوشبو ایوارڈ 2009
اس کے علاوہ بہت ساری ادبی تنظیموں کی طرف سے لاتعداد اعزازی شیلڈز اور ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔

*سو جھوٹوں میں ایک سچا پھنس جاۓ تو حل کیا ہے ؟

میرے زاویے سے معاشرے کے اندر بہت سی چیزیں رائج ہوتی ہیں جو لوگ درست سمجھ کے کر رہے ہوتے ہیں اور کرتے چلے جارہے ہوتے ہیں پھر ایک بندہ پیدا ہوتا ہے منٹو جیسا ، بلھے شاہ جیسا ، وکٹر ہیوگو جیسا جو لوگوں سے کہتے ہیں کہ یار یہ جو تم کر رہے ہو وہ ٹھیک نہیں ہے ۔ شروع شروع میں انہیں بڑی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ معاشرہ ان کی فکر کی سطح کو پہنچا نہیں ہوتا ۔ جیسے بلھے شاہ پر کفر کے فتوےٰ بھی لگے حتیٰ کہ علامہ محمد اقبال کو بھی نا پسند کیا گیا ۔ سچے کو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے ۔ سچ سے دستبردار نہیں ہونا چاہیئے ۔ طریقے سے ، سلیقے سے اور حکمت سے سچ کو سامنے لانا چاہیئے ۔

*سیرو سیاحت کے شوقین ہیں ؟ اب تک کون سے مشہور سیاحتی مقامات گھوم چکے ہیں ؟

سیرو سیاحت کا شوق رہا اور یہ شوق اب بھی ہے۔ پاکستان آرمی آفیسر کی حیثیت سے مجھے پورا پاکستان گھومنے کا موقع ملا ۔ کچھ اپنے شوق سے سیرو سیاحت کی ۔ گلگت بلتستان ، ہنزہ میں وقت گزارا اور سیاحت بھی کی ۔ پھر پشاور ، کوہاٹ اور جنوبی وزیرستان میں بھی رہا اس کے علاوہ بلوچستان میں ژوب ، دالبندی ، تربت اور گوادر میں بھی سیاحت کی ۔ سیرو سیاحت میرا شوق رہا ہے ابھی بھی لاہور کے آس پاس جتنی بھی جگہیں ہیں جیسے میں ہرن مینار وغیرہ بھی جاتا ہوں ۔ دوسرے ملکوں میں بھی جانے کا اتفاق ہوا فرانس ، انگلینڈ کے بہت سارے شہروں میں گیا ۔
یو اے ای بھی گیا تھا ۔ مکہ مدینہ بھی گیا اور عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی ۔ میرا خیال ہے جہاں تک آدمی کی پہنچ ہو ملک میں یا ملک سے باہر سیاحت ضرور کرنی چاہیئے ۔

*زندگی کا وہ دور جب کوئی قیمتی شے کھو گئی ہو تو خود کو کیسے موٹیویٹ کیا؟
میری والدہ کا انتقال ناگہانی طور پر ہوا ۔ اس وقت میں نوجوان تھا اور میری چھوٹی بہن تیسری یا چوتھی جماعت میں پڑھتی تھی ۔ وہ اتنا بڑا نقصان تھا ایسا لگتا تھا کہ زندگی میں کچھ بچا ہی نہیں ۔ وقت مرہم ہے لیکن جب وہ لمحہ یاد أتا ہے تو صبر نہیں ہوتا ۔ والدہ کے انتقال کے دو سال بعد کی بات ہے کہ میں ایک دوست کے گھر میں تھا تو دوست ہر چھوٹے چھوٹے کام کے لیے بار بار امی پکارتا کہ یہ کام کردیں ۔ مجھے احساس ہوا کہ میں تو کسی کو یہ لفظ کہہ بھی نہیں سکتا ۔ نقصان کا صدمہ بہت گہرا ہوتا ہے ۔ پیسے ، رشتے اور جذبوں کے نقصان بھی ہوئے لیکن یہ نقصان سب سے بڑا ہے ۔ اس صدمے سے نکلنے کے لیے خود کو موٹیویٹ کرنا کہ معشیت ، تقدیر پر اور زندگی کے مختلف زاویوں پر صبر کرنا ہی پڑتا ہے اور زندگی کو آگے چلانا ہی پڑتا ہے وہ کہتے ہیں نا کہ
Life must go on
زندگی چلتی رہنی چاہیئے

*نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی پیغام ؟
سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہمارا اوزار یا ہتھیار ہے وہ زبان ہے ۔ کسی نے کچھ بھی لکھنا ہے جیسے نظم ، غزل ، افسانہ ، ناول اور کالم وغیرہ تو وہ زبان میں لکھنا ہے تو یہ سب لفظوں پر مشتمل ہیں لہذا زبان پر توجہ دیں معیاری ، درست ، خوبصورت ، عمدہ اور تخلیقی زبان استعمال کریں ۔ زبان کے خلاقانہ استعمال سے ، لفظوں کے غیر متوقع استعمال سے تخلیقیت پیدا ہوتی ہے ۔ لفظ کے معنی میں کشادگی لانا اگر آپ غزل یا نظم لکھ رہے ہیں اگر آپ لفظ اور جملے تخلیقی بنائیں تو آپ کے ادب پارے کی قدرو قیمت بڑھ جاۓ گی ۔ جس صنف میں بھی لکھ رہے ہیں اس کے تقاضے کو سمجھیں اور معیاری زبان میں لکھیں ۔

*آپ کا پسندیدہ کلام جو قارئین کے ساتھ شئیر کر سکیں ۔

شہزاد نیر

مرا نہیں تو وہ اپنا ہی کچھ خیال کرے

اسے کہو کہ تعلق کو پھر بحال کرے

نگاہ یار نہ ہو تو نکھر نہیں پاتا

کوئی جمال کی جتنی بھی دیکھ بھال کرے

ملے تو اتنی رعایت عطا کرے مجھ کو

مرے جواب کو سن کر کوئی سوال کرے

کلام کر کہ مرے لفظ کو سہولت ہو

ترا سکوت مری گفتگو محال کرے

بلندیوں پہ کہاں تک تجھے تلاش کروں

ہر ایک سانس پہ عمر رواں زوال کرے

وہ ہونٹ ہوں کہ تبسم سکوت ہو کہ سخن

ترا جمال ہر اک رنگ میں کمال کرے

میں اس کا پھول ہوں نیرؔ سو اس پہ چھوڑ دیا

وہ گیسوؤں میں سجائے کہ پائمال کرے۔

معزز قارئین امید ہے آپ کو انٹرویو پسند آیا ہوگا اپنی راۓ کا اظہار ضرور کیجئے گا ۔ اگلے انٹرویو تک میزبان رشنا اختر کو اجازت دیجیئے دعاؤں میں یاد رکھئیے ۔
اللّٰہ حافظ

رشنا اختر

Share This Post :

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.