Ek Supahi Ke Khawab

466 Views

نیلے آسمان پر اڑتے ہوئے پرندے تیرتے ہوئے بادلوں سے اٹھکیلیاں کرتے ہوئے ۔۔۔ہوا کے جھونکے کسی پیش آمد طوفاں کا پتہ دے رہے ہیں ۔۔کوئل کُوکتی ہے اور مور ناچتے ہیں ۔۔کچھ پل میں روشنی سرمئی بادلوں کی اوٹ میں غائب ہو جاتی ہے ۔۔۔رم جھم شروع ہو جاتی ہے ۔۔گیت بھی ہونٹوں پر مچل اٹھتے ہیں اور نغمے ہر سُو بکھر جاتے ہیں ۔۔زندگی کے ویراں کدے میں قوس قزح بکھر جاتی ہے

۔’ مزے دار شاعری ‘ کسی نظریے کا ’گونج دار اعلان ‘ لیے ہوئے نہیں ہوتی ۔ کچھ تیر بہدف نظمیں اور کچھ خوب رو اشعار ۔۔۔ ۔ایک تیز ہوا کا جھونکا ، لفظوں کی آبشار ، اپنے پیچھے مرتسم ہر خیال ، فکر اور سوچ کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو ئی بے شک کہے کہ مجھے ان کی شاعری نے قطعی متاثر نہیں کیا ہے ۔۔۔۔اس کے باوجود نظم و غزل کے اشعار کیوں پڑھنے پر اکساتے ہیں ۔۔۔۔آسان اور سہل انداز بیان ، کسی روایت کی چھاپ سے مبرا ، ایک سیلانی طبع اور نگر نگر کا مسافر ، بلند ٹیلوں ، انسانوں کے ہجوم میں ہم قدم ، ویرانوں میں سرگرداں اور تنہائیوں میں حیراں۔۔۔۔
شاعر کی کوئی خاص وضع قطع نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی خاص پہچان ہوتی ہے ۔ میرا جب شہزاد نیر سے تعارف ہوا تو وہ میرے تصوراتی شاعر کے قطعی برعکس دکھائی دیے ؎۔۔۔۔لیکن جب میں ان کے شعری کمالات سے آگاہ ہوا تو وہ اس محاذ پر’ اُس مورچے ‘کی نسبت زیادہ سرگرم اور متحرک دکھا ئی دئیے ہیں۔ جہاں وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کر تے رہے ہیں ۔۔
میں نے ان کے شعری مجموعوں ’’ برفاب‘‘۔’’ چاک سے اترے وجود‘‘۔اور ’’ خوابشار‘‘ کا مطالعہ کیا تو مجھے ان کے اعلیٰ شعری ذوق کا بخوبی اندازہ ہوا ۔نظم ہو یا غزل شہزاد نیر کو ان پر مکمل دسترس حاصل ہے ۔ اور وہ ایک سیل رواں کی طرح اپنی طبع موزوں سے سخن کے لعل و گوہر بہاتے چلے جاتے ہیں ۔
گوندلانوالہ ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ۔ میٹرک بھی اسی گائوں سے کیا۔ فرسٹ ائر کے لیے ایف سی کالج لاہور میں داخلہ لیا ۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد آرمی کو جوائن کر لیا ۔ والد محترم محمد رفیق صنعتکار ہیں ۔ تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ۔۔۔۔ساتویں جماعت کے طالب علم تھے ۔ ضیاء الحق کا دور آمریت تھا ۔ سکولوں میں فارسی کو ختم کرکے عربی زبان کو لازمی زبان قرار دے دیا گیا تھا ۔ عربی زبان کے استاد مدرسوں سے آناً فاناً لیے گیے ۔ جن کا طرز تدریس مارپیٹ سے مشروط تھا ۔ حالانکہ شہزاد نیر پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک ہمیشہ فرسٹ ڈویژن حاصل کرتے رہے ہیں ۔ لیکن مدرسوں کے عربی معلم درشت رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں بھی زدوکوب کیا کرتے تھے ۔ ایک عربی کے استاد نے شہزاد نیر کو بلاوجہ مارا پیٹا اور کمر پر چھڑی سے خوب ضربیں لگائیں ۔ تو شہزاد نیر نے سوچا میں کیا کرسکتا ہوں؟ تب ذہن میں ایک کوندا لپکا’’ میں استاد کے خلاف ایک نظم لکھ سکتا ہوں ‘‘اور وہ پھر فوراً لکھ دی گئی۔۔دل کا غبار اشعار کی صورت میں ڈھل گیا ۔
اس کا مطلب ہے کہ شاعر تو اول روز سے ہی کہیں ان کے ساتھ پرورش پاتا رہا۔۔۔ بس اسے ایک ’ضرب‘ لگانے کی ضرورت تھی ۔ سکول کے زمانے میں معروف شعرا کی نظمیں اور اشعار زبانی یاد تھے ۔ جنہیں شہزاد نیئر تنہائی میں گنگنایا کرتے تھے ۔ کچھ گیت بھی پسند تھے جن کو گا کر خود کو محظوظ کیا کرتے ۔مدرسے کے استاد سے مار پڑنے کے بعد اس قدر ’’آمد ‘‘ہوئی کہ شاعر نے اپنی کاپیاں اشعار سے بھر دیں ۔ وہ جن راستوں سے گزر کے سکول جایا کرتا تھا ۔ وہاں دھان کے کھیت ہوا کرتے تھے ۔ گندم اور آلو کی فصلیں ہوا کرتی تھیں ۔ یہاں سبزے اور ہریالی سے شاعر کا سابقہ ہوتا تو رومانس نے کروٹیں لیں ۔۔ غزلیں نظمیں کہتے کہتے راستہ کٹ جاتا تھاـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔
اسمعیل میرٹھی کی نظمیں یاد تھیں۔ بچوں کے لیے نظمیں لکھنے والے شاعر شفیع الدین نیر تھے ، ان سے اپنا تخلص ’’ نیر ‘‘ مستعار لے لیا ۔ میٹر ک کر نے کے بعد گوجرانوالہ میں شاعر اور دانشور اسیر عابد کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ شعر گوئی کے حوالے سے کچھ رہنمائی کریں تو انہوں نے ماجد الباقری کے پاس بھیج دیا ۔ جو ماہر عروض تھے ، اور کہا کہ وہ آپ کے اشعار کے’میٹر‘ درست فرمائیں گے ۔
’’جب میں نے میٹرک کرنے کے بعد لاہور آکر ایف سی کالج میں داخلہ لیا تو یہاں عقیل احمد روبی ،خواجہ رضی حیدر ، حسن رضوی ،آرزو چودھری ، ڈاکٹر سہیل آغا ، رضازیدی اور پروفیسر شارب میرے استاد تھے۔ رضی حیدر صاحب کا ایک شعر مجھے آج تک یا دہے
ہجر و وصال کے سارے قصے ، قصے ریت کی لکیروں کے
وقت کی آندھی چاٹ گئی ہے گہرے رنگ تصویروں کے
’’آغاز میں جن مشاعروں میں شاعری سنایا کر تا تھا تو میرے آس پاس امجد اسلام امجد اور عطاالحق قاسمی ہوا کرتے تھے ۔ ایف سی کرنے کے بعد میں نے فوج کو جوائن کر لیا ۔ جہاں جسم و جاں کی کڑی آزمائشوں کا سفر شروع ہوا ۔پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی سخت تربیت کے دوران بھی میں وادی سخن کے مرغزاروں میں گھومتا رہا ۔ 1995 میں کامیاب تربیت کے بعد بحثیت سیکنڈ لیفٹینٹ تعینات ہوا ۔جو بھی کلام میں نے لکھا یا کہا ہے وہ جرائد میں نہیں بھیجا اور جو جرائد میں شائع ہوا ہے ، انہیں اپنے شائع ہونے والے مجموعہ ہائے کلا م میں شامل نہیں کیا ہے ۔ میرا اپنا انتخاب ہوتا ہے ۔ ‘‘

’’کارگل کی جنگ میں بطور کیپٹن دشمن سے سابقہ ہوا ۔ 2000 میں سیاچن میں تعیناتی ہوئی اور اسی دوران میراپہلا مجموعہ کلام’’ برفاب‘‘ شائع ہوا ْ۔اس عنوان کی وجہ تسمیہ تو واضح ہے ۔ اس میں ایک طویل نظم ’’خاک‘‘ بھی شامل ہے ۔جس کا خاص پس منظر ہے کہ میں نے سیاچن گلیشر میں مدفون ایک جسم دکھایا ہے جو صدیوں بعد باہر نکلتا ہے اور یہ’’ خاک ‘‘کی فتح کا استعارہ ہے کہ جسے بالآخر زمین سے مل کے خاک ہونا ہوتا ہے ۔ ماہ و سال کبھی مجھ پر نظم حاوی رہی تو بسا اوقات غزل کے زیر اثر رہا ہوں ۔میری نظموں پر مشتمل کتاب ’’ برفاب‘‘ کو پین ایوارڈ مل چکا ہے ۔ یہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کے لکھنے والوں کے لیے ایوارڈ ہے جو پہلی کتاب پر ملتا ہے ۔ یہ مجھے میری اس اولین کتا ب ’’ برفاب ‘‘ پر 2006
میں دیا گیا تھا ۔ جبکہ آمنہ مفتی کو ان کے پہلے ناول پر اسی برس یہی ایوارڈ ملا تھا ۔ میری دوسری کتاب ’’چاک سے اترے وجود‘‘ (نظمیں ، غزلیں ) پر مجھے پروین شاکر ایوارڈ ملا ۔ اس دوران میں میجر ہوچکا تھا۔‘‘
’’میری آرمی میں پوسٹنگ مختلف محاذوں پر ہوئی ۔ کشمیر اور بلوچستان ، بعد ازاں جنوبی وزیرستان جہاں زندہ بچ جانے کا امکان کم تھا ۔ وہاں ایک فوجی سر پر کفن باندھ کر ہی جاتا تھا ۔ قلم اٹھانا ہو یا تلوار اٹھانا ہو ۔۔۔میں دونوں محاذوں پر لگاتار اور تسلسل کے ساتھ جنگ کرتا رہا ہوں۔
’’جی بھر کے مطالعہ کیا ہے ۔ تصوف ، مذہب ، تاریخ ، عربی فارسی اور فلسفہ کا بھرپور اور گہرا مطالعہ کیا ہے ۔ فلسفے میں برٹنڈ رسل اور علی عباس جلالپوری نے بہت متاثر کیا ہے ۔ ابن حنیف ، محمد ارشاد ، سبط حسن کی کتابوں نے جکڑ لیا ۔ شاعری میں میرا جی اور راشد کا اسیر رہا ۔ مجید امجد کے متاثرین میں بھی شامل ہوں۔

بعد ازاں اختر حسین جعفری سے ہم کلام ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’فنون ‘‘میں شائع ہونا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں تھا ۔ میں گوجرانوالہ سے خاص طور پر احمدندیم قاسمی سے ملنے کے لیے آتا تھا ۔ معروف شاعر خالد احمد مرحوم سے بھی بہت نیازمندی رہی ہے۔ ان کا یہ شعر مجھے یاد ہے
دانش ور بازار میں دانش بیچ آئے
بادل کتنے پست تھے بارش بیچ آئے
’’ 2003 ء میری تیسری کتاب ’’ گرہ کھلنے تک ‘‘ آئی ۔ موضوعات ترقی پسند نظریہ ادب اور ماورا کے حوالے سے تھے ۔ فوج میں رہتے ہوئے مجھ پر یہ پابندی عائد تھی کہ میں اپنی کسی بھی تخلیق کی اشاعت سے پہلے آئی ایس پی آر سے اجازت لازمی حاصل کروں ۔ میں نے اپنی تیسرے مجموعہ کلام ’’گرہ کھلنے تک‘‘ کا مسودہ اجازت کے لیے جمع کرایا ۔ انہوں نے مجھے بلا لیا اور میرا مسودہ مجھے دیا ۔جس کے ہر صفحے پر شعر یا مصرعے کے گرد’ سرخ دائرے ‘لگے ہوئے تھے ۔ جس کا مطلب تھا کہ انہیں ان پر سخت اعتراض تھا ۔ حتیٰ کہ انتساب بھی سرخ دائروں کی زد میں آیا جو کچھ یوں تھا \
’’ زمین کے ان باسیوں کے نام
جو آسمان کی خاطر قتل ہوگئے
’’ایک خاتون آئی ایس پی آر میں تھیں ۔ جنہوں نے مسودے کی قابل اعتراض سطروں پر سرخ دائرے لگائے تھے ۔ انہو ں نے مجھ سے کہا کہ یہ سطریں نکالنا پڑیں گی ۔ میں نے صاف انکار کردیا ۔وہ خاتون مجھے ایک کرنل کے پاس لے گئیں ۔ انہوں نے بھی اصرار کیا ۔ لیکن میں نے کہا اگر میں یہ سطریں نکال دوں تو باقی کیا رہ جاتا ہے؟میرے لیے یہ ناممکن ہے ، میں ایک تخلیقی فن کار ہوں ، اپنے فن سے روگردانی نہیں کر سکتا ۔ اب معاملہ جو اس قدر سنگین تو نہیں تھا ، ایک بریگیڈیر صاحب کے روبرو پیش ہوا ۔ انہوں نے منصفانہ فیصلہ کر تے ہوئے کہا کہ اس میں فوج کے خلاف تو کوئی بات نہیں ہے ؟ جواب ملا ’’ جی نہیں ‘‘
جواب ملا تو پھر ٹھیک ہے شاعر کی منشا کے مطابق شائع ہونے دو۔۔ اور ازراہ تفنن یہ بھی کہا کہ ’شاعری آجکل کون پڑھتا ہے ؟‘
’’میں اپنے فکر ی دائرے سے باہر نکلنا نہیں چاہتا تھا ۔ میری چوتھی کتاب ’’ خوابشار ‘‘ شائع ہوئی جس میں میری صرف غزلیں ہیں ۔ میں دسمبر 2018 میں ریٹائر ہوا ۔ میرا ایک شعر ہے
جو بانٹنے نکلے ہو تو سب بلا امتیاز دینا
خدا کی صورت نہ چند لوگوں کو نعمتوں سے نواز دینا
یہ بے نیازی تجھے مبارک یہ بخت سازی تجھے مبارک
کسی کے بازو کو کاٹ دینا کسی کو دست دراز دینا
’’میں نے دو شادیاں کی ہیں ۔۔پہلی بیوی کا انتقال ہوچکا ہے ۔۔دونوں سے بچے ایک ساتھ ہی رہتے ہیں میری شاعری پر ایم فل کے تین مقالے لکھے جاچکے ہیں ۔ لگ بھگ سو کے قریب مضامین لکھ چکا ہوں جن میں ساحر لدھیانوی اور ایوب خاور اور عباس تابش کے نام اہم ہیں ۔‘‘
شاعر خالد احمد نے شہزاد نیر کی شاعری کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے
’’سیاچن کی ٹھٹھرتی بلندیوں سے ایک گرم آہنگ آبشار پھوٹا اور مجھے جان و تن تک بھگو گیا ۔ یہ ایک سپاہی کی نظمیں اور غزلیں تھیں ۔ یہ ایک سپاہی کے خواب تھے ۔ یہ خواب لفظوں کے سوداگر نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ مجھے یہ خواب بہت اپنے سے لگے ۔ کہیں میرے اندر بھی کو ئی سپاہی تو نہیں چھپا بیٹھا ہے ۔ میں سوچتا رہا اور شہزاد نیر کے کلا م سے گزرتا رہا ۔‘‘

شہزاد نیر کی شاعری سے کچھ اشعار اور نظمیں
حجرہ چشم تو اوروں کے لیے بند کیا
آپ تو مالک و مختار ہیں آئیں جائیں
زندگی تُو نے دکاں کھول کے لکھ رکھا ہے
اپنے حصے کا کوئی رنج اٹھائیں ، جائیں

وہ تن کا تماشائی رہا من نہیں دیکھا
دہلیز تک آیا بھی تو آنگن نہیں دیکھا

کو ئی پہاڑ ہٹ گیا
عجیب ٹوٹ پھوٹ تھی کہ کائنات ہل گئی
زمین وہ نہیں رہی
فلک سروں سے ہٹ گئے
قدیم دکھ جدا ہوئے
ذرا سا ایک زاویہ بدل گیا
کہانیاں بدل گئیں
کہانیوں کے ساتھ خوش گمانیاں بدل گئیں
عجیب سی وہ آگ تھی
گنہ ثواب جل گئے
سزائیں جزائیں جو بھی تھیں وہ جھلس گئیں
تپش سے خیر و شر کا سارا زائچہ پگھل گیا ۔
جدید خد و خال میں ہر ایک نقش ڈھل گیا
کمال تھا وہ رنگ جو ہر ایک شے پہ پھر گیا
نیا تھا اک جہان میرے سامنے پڑا ہوا
عجیب سی وہ آگ تھی
وہ آگ تھی کہ آگہی
کہیں پر جو رکی نہیں
جو آگے آگے چل پڑی تو راستہ نکل پڑا
خدا کو پیچھے چھوڑ کر
میں خود کو لے کر چل پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رب رانجھے ورگا ناں
وہ لڑکی عجیب ہے
کسی سے کوئی سوچ لیتی نہیں
اپنے من میں اتر کر سبھی بھید لیتی ہے
سنتی نہیں
کہہ رہی تھی خدا سے
تجھے سوچتی کیوں رہوں میں
بتا آسماں کے کسی بند کمرے میں
سب بتیاں بند کر کے کبھی تُو نے مجھ کو بھی سوچا؟
نہیں نا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین اور تین سو

عورتیں
رقص کرتی ہوئی عورتیں
رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی
تیز سازوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ سے
دم بہ دم ، خم بہ خم
محوِ نغمہ سماعت لرزتی ہوئی
گھومتے ، جھومتے ، زاویے ، دائرے ، قوس بنتے بدن
رقص کے ایک ایک بھائو کا
دردِ تخلیق سہتی ہوئی عورتیں
آدمی
تین جسموں کو تکتے رہے
تین سو زر بکف آدمی
ساری آنکھیں ان آنکھو ں میں ہیں
جو فقط زر کے منظر میں ہیں رقص دو رُخ پہ چلنے لگا
تال بٹنے لگی
کوئی دل کے ، کوئی زر کے ٹھیکے پہ تھا
ناچتے ، مست ہوتے ہوئے آدمی
منتظر عورتیں
رات آنکھوں سے ہو کر گزرتی ہوئی
ہجر بستر پہ پہلو بدلتے ہوئے
کربِ تنہائی سہتی ہوئی عورتیں
تین سو عورتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہزاد نیر کی کتابوں کے ایک سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں ۔۔۔انہیں ’زود آمد ‘ شاعر کہا جاسکتا ہے ۔کتابوں کے قاری نہ ہونے کے باوجو د ہم شہزاد نیر کی تیزی کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ جانے والی کتابوں سے ان کی پسندیدگی کا اندازہ تو کر سکتے ہیں لیکن ادبی قد کاٹھ کا تعین مستقبل کا نقاد ہی کر سکتا ہے ۔کون جان سکتا ہے کہ اس شہر کی فصیلوں کی بنیادوں میں دیوان اور مجموعہ ہائے کلام فراموشی کی خاک میں مدفون ہیں اور کسی ایسے کوہکن کے انتظار میں ہیں جو ان کے گم شدہ حروف سے غروب ہونے والے ماضی کا سراغ لگا سکے ۔۔۔۔
وہ تنہا مسافر کسی گلشن کے کنج میں بیٹھا یہ سوچتا ہے کہ مجھے اس راستے سے اس راستے تک جانے کے لیے کن راستوں سے گزرنا ہوگا اور میں نے جو سوچا ہے کیا وہ صرف میرے دل دماغ میں تپش بن کر میرے خیالات کو گرماتا رہے گا ۔۔کیا میں انہیں لفظوں بیان کر سکتا ہوں اور وہ پھر قرطاس پر رنگ بکھیرنا شروع کرتا ہے
محبت لوٹ سکتی ہے
اگر ہم ایک دوجے کو ان ہی معصوم نظروں سے پکاریں
جن سے پہلی بار دیکھا تھا
اگر مل بیٹھ کر دونوں
غلط فہمی کی کالی رات سے باہر نکل آئیں
تو گویا دن نکل آئے
ہم اب بھی خوبصورت ہیں
ہمارے زرد چہروں
دُکھ بھری آنکھوں میں اب بھی حُسن بستا ہے
جو ہم رخصت کریں ان تلخ باتوں کو
تو وہ شیریں بیانی خود بخود آئے گی
جو پہلے پہل دونوں کے لہجوں میں
محبت بن کے آئی تھی

ادھر دیکھو یہ رستہ اب بھی پیارا ہے
نئے وعدوں کی انگلی تھام کر پھر چل پڑیں
چلتے چلتے جائیں
محبت راستہ ہے
اس میں پھولوں ، تتلیوں اور جگنوئوں کے قافلے
اب تک ہمارے منتظر ہیں
اب بھلا ڈالو گلے مل کر گِلے
شکوئوں سے دامن جھاڑ لو
پہلے قدم پر ہی محبت لوٹ آئے گی

طاہراصغر

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.