Girah Khulnay Tak (Tabsra)

400 Views

گره کھلنے تک ( نظمیں )
شاعر : شہزاد نیر
تبصرہ نگار : ثمین بلوچ
( کم ہی تبصرے اتنے گہرے اور جامع ہوتے ہیں۔ احباب نثر تو دیکھیے۔۔۔۔شکریہ ثمین صاحبہ کہ آپ نے نظموں کو خود پر بیتا۔۔۔ ش ، ن )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کار دشوار ہے دشوار کو آساں کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور بات جب گھمبیر انسانی جذبات٫ اپنے مشاہدات و تجربات کو لفظانے کی ہو تو بہت سے لکھاری فلسفے کا سہارا لیتے ہوئے اپنی تخليق کو اتنا ثقيل کر دیتے ہیں کہ عام قاری لفظوں کے رعب میں دب کر رہ جاتا ہے اور پس تحریر کیا ہے اس میں دیکھنے کی ہمت ہی نہیں کرتا۔
شہزاد نیر صاحب کا نام اس قدر سنا تھا کہ مجھے لگتا تھا ان کو پڑهنا مرزا غالب کو پڑھنے جیسا ہوگا۔ مگر تجسس اپنی جگہ – گرہ کھلنے تک هاتھ لگی۔ یہ کیا ! گرہ در گرہ ۔۔۔۔ اور ایسی آسان گرہیں ۔ ایک اوسط درجے کا قاری بھی اپنے حصے کی گره کھول کر گیان پالے ۔ نہ لفاظی کی بھرمار٫ نہ مشکل تراکیب ۔
ارسطو اور سقراط ایسے سادہ الفاظ میں بھی بیان کئے جا سکتے ہیں ۔ حیرانی ہوئی اور ,خوشی بھی
آپ زمینی آدمی ہیں اور آج کے آدمی ہیں۔ آپ کو شعری تماثیل کے لئے نہ خلا جانا پڑا نہ غار میں ۔ پرت در پرت , آسان زبان, مانوس اور نرم لہجہ عام زندگی سے لئے گئے موضوعات اس کتاب کا خاصه ہیں۔
کتاب کی آخری نظم ” نوحه گر” ہے- اس نظم پر میرا کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے- پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
شہزاد صاحب عورت کی آواز بنتے ہیں تو گویا ان کے اندر ایک عورت بستى ہے- بابل سے فریاد کرتے سمے ہر آنگن میں پلتی لڑکی ان کے سنگ گانے لگتی ہے-
ورکنگ وومن کا بوجھ سمجھتے ہیں۔
روٹھی محبت کو شاعرانہ مشورے دیتے ہیں
ان کہی کو لفظ دیتے ہیں۔
ان کی سلاست اور روانی قاری کو باندھے رکھتی ہے- ایک بہت بڑے شاعر کے لئے میرے الفاظ بہت کم اور چھوٹے ہیں ۔
نظموں کے اس مجموعے کی ہر نظم شاہکار ہے. ایک نظم پیش خدمت ہے
قلب ماہیت
ریت ہوا سے مل جائے تو
صحرا اک دیوار کی صورت
آنکھ کو اندها کر دیتا ہے
ریت بگولوں میں گھومے تو دنیا گھومنے لگ جاتی ہے
منظر ریگ پہن کر ایسے چل پڑتا ہے
آنکھیں پاؤں نہیں رکھ پاتیں !
ریت اور سورج مل جائیں تو
آنکھ سراب میں کھو جاتی ہے
یہ آنکھوں کی سکھی سہیلی نہیں
کہ اس کا اک ذرہ بھی پڑ جائے تو
چشم کو چشمہ کر دیتا ہے !
ریت کبھی جو آگ سے مل کر
جسم و جاں سے پگھل جاتی ہے
نئے وجود میں ڈھل جاتی ہے
اپنے اندر رستہ دے کر آنکھ کو وہ منظر دیتی ہے
جس کو آنکھ ترس جاتی تھی
سب کچھ دیکھتی رہتی تھی
اور خود کو دیکھ نہیں پاتی تھی!
ہم دونوں بھی جسم و جان سے پگھل جاتے ہیں
اک دوجے کی آنکھ کے ساتھی
آئینے بن جاتے ہیں۔۔
شہزاد نیر
کتاب ” گرہ کھلنے تک “
ناشر : بک کارنر جہلم

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.