Gawadar Ka Dur Khula

گوادر کا در کُھلا
(رپورتاژ)

چاند اس دو منزلہ عمارت کی چھت پر چمک رہا ہے۔ دو دن کے بعد یہ چودھویں کا چاند کہلائے گا لیکن روشنی میں آج بھی کم نہیں۔ سیمنٹ کی چھت پر چاندنی کی سفیدی پھری ہے۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے نظر سمندر تک جاتی ہے۔ چاند کا عکس پانی میں تیرتا ہے۔ عکس سے بے ترتیب کرنیں جھلملاتے ہوئے نکلتی ہیں۔ ان کرنوں کو آتی جاتی لہریں ہُلارے دے رہی ہیں۔ تیرتے عکسِ ماہ کے دونوں طرف متحرک سفید لکیریں کھِنچی ہیں۔ آسمان پر چاند پُرسکون چمکتاہے۔ اس بات سے بے خبر اور بے پروا کہ پانی اُس کے عکس کو بے طرح ہلاتا ہے اور خود مچل مچل کر اُس کی جانب لپکتا ہے۔
سمندر کی طرف سے ہوا آتی ہے تو اپنے ساتھ لہروں کا شور لاتی ہے۔ وہ ایک نمکین مہک اٹھائے پھرتی ہے۔ وہ نمی لا کر گالوں پر لگاتی ہے۔ اس میں تازگی اور شوخی ہے جوطبیعت کو چنچل کرتی ہے۔
باتوں کی آواز قریب سے آرہی ہے۔ یوسف بلوچ نے سفید براق رومال سر پر لپیٹ رکھا ہے۔ رومال کا ایک کونہ ٹھوڑی کو چھوتا ہوا بائیں کندھے پر جا پڑا ہے۔ وہ جی آر مُلا کے بلوچی اشعار سنا رہا ہے۔ اُس کی آواز کا زیرو بم سامنے نظر آتی سمندری لہروں کے نشیب و فراز سے مل رہا ہے۔ جی آر مُلّا نے بلوچی شاعری میں سمندر کی لہروں سی مستی اور جوش بھر دیا ہے۔ ہُوتی خان بلوچ جیونی کے اس آزاد، بے باک شاعر کی کچھ اور شاعری سنا رہا ہے۔ لبوں پر مسکراہٹیں آگئیں۔ چہرے پھول سے کِھل اُٹھے ہیں۔ بجّار بلوچ نے کوئی معروف بلوچی گیت گانا شروع کر دیا۔ سب لوگ اُس کے ساتھ گا رہے ہیں۔ تالی کی تال ہے اور نصف شب نرمی سے بلند ہوتی گیت کی لَے۔ اکرم صاحب خان اُٹھ کر ناچنے لگے ہیں۔ وہ شرکائے محفل میں بزرگ ترین ہیں۔ ان کا ساتھ دینے کے لیے جوان، نوجوان، ادھیڑ عمر تڑپ کر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اس رقص میں وقار ہے اور ٹھہراؤ۔ پاؤں کی خفی سی جُنبش اور بازوؤں کی حرکت سے ملائمت میں بدلتا رقص جاری ہے۔ بلوچی چاپ نے چپ چاپ سماں باندھا تو دل چلتے چلتے ٹھہر گیا۔ اکرم صاحب خان بیٹھے تو سب بیٹھ گئے۔
نیا دور چلا۔ دورِ چرخ بدلا۔ شاعری تحت اللفظ سنائی جانے لگی۔ بلوچی زبان کا مکرانی لہجہ سماعت میں اُتر رہا ہے۔ ”یہ بہت گہری زبان ہے…… بہت گہری“ کوئی اِس اردو دان پنجابی کے لیے کہتا ہے۔ یہ آواز واحد بخش باد پا کی ہے۔ آپ بلوچ ہیں اور ایران سے آئے ہیں۔ بلوچی زبان و ادب پر تحقیق کرتے ہیں۔ چہرے پر ہلکی سفید داڑھی، آدھا سر صاف اور آدھے سر کے بال کندھوں سے نیچے تک لمبے۔ تھوڑی سی اردو اور بہت سی فارسی جانتے ہیں۔ جہاں اُردو میں اٹک جائیں وہاں فارسی میں رواں ہو جاتے ہیں۔ اصل میدان ان کا بلوچی زبان ہے۔
چاند کا عکس لبالب بھرے گلاس کی اوپری سطح سے پیندے کی جانب سفر کرتا ہے تو سرمستی رگ و پے میں رواں ہوتی ہے۔ کوئی بُھنی ہوئی مچھلی سے بھری قاب لے آیا ہے۔ اس کی تیز مہک فوراً نتھنوں کو متحرک کرتی ہے۔ ذائقہ کئی گنا بڑھ کر محسوس ہوتا ہے۔ کانوں میں پڑنے والی تانوں کی تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔ سامعہ اور شامہ حساس تر ہوتے جاتے ہیں۔ فضا میں وہ سرور ہے کہ سر چاند کو چھوتا محسوس ہوتا ہے۔ لطف و انبساط کے اگر کچھ معنی ہیں تو آج ہیں، ابھی ہیں۔ یہاں ہیں، یہیں ہیں۔ زبانوں کا فرق مٹ چکا ہے۔ مست توکلی کی سمّو اوروارث شاہ کی ہیر گہری سہیلیوں کی طرح ایک دوسری کے کان میں منہ دے کر باتیں کر رہی ہیں۔
میں ہیر کا کوئی شعر پڑھ کر اس کا اردوترجمہ کرتا ہوں۔ آغای واحد بخش بادپا کرسی سے آگ جھک کر ”ہیں؟“ کہتے ہیں تو جلدی سے فارسی میں آزادمفہوم بول دیتا ہوں۔ کسی طرف سے فارسی شعر آنے لگتے ہیں۔ ساتھ ہی بلوچی، بیچ میں غالب و میر، پھر عطا شاد کی اردو بلوچی شاعری جو کیچ مکران کی بستی بستی سفر کرتی ہے۔ زبانیں دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہیں۔ شاعری، شاعری سے گلے ملتی ہے۔ راگنی، راگنی میں گُھل مل جاتی ہے۔ آرٹ کا سمبندھ گہرا ہے۔ آرٹ ملاتا ہے، طاقت بانٹتی ہے، نفرت کاٹتی ہے، سیاست لڑاتی ہے، آرٹ جوڑتا ہے۔
سمندر بطِ مَے لگ رہا ہے۔ لہریں لہروں سے مل رہی ہیں۔ میں بولتا ہوں تو اپنی آواز کہیں اور سے آتی محسوس ہوتی ہے۔ میں شعر سنا رہا ہوں لیکن لگتا ہے کوئی اور سنا رہا ہے اورمیں سن رہا ہوں۔ دوسروں کی آوازیں اب دور سے آنے لگی ہیں۔ سب اٹھ کر آخری گیت گاتے، دائرہ وار ناچتے ہیں۔ رقص تھمتا ہے۔ سب رخصت ہو رہے ہیں۔ میں نچلی منزل پر اپنے کمرے میں آتا ہوں۔ چاند کی ترچھی کرنیں کھڑکی سے داخل ہو کر بستر کی سفید چادر اُجال رہی ہیں۔ سمندر کی ہوا آتی ہے، میں جھونکے پر سوار ہو کر بستر تک آتا ہوں۔ بستر مجھے ملائمت سے اپنے سفید پَروں پر اُٹھا لیتا ہے جیسے کوئی سمندری بگلا جو مجھے سمندروں کی سیر پر لے چلا ہو۔
یہ گوادر کی ایک رات تھی۔ اس رات کا ایک دن بھی تھا۔ دن کی کرنیں بڑے ہال میں آتی تھیں۔ ہال میں لوگ بھرے تھے۔ سب کے سب متوجہ آنکھوں سے سٹیج کی طرف دیکھتے اور پُرشوق سماعت سے کلام سنتے تھے۔ بلوچ ثقافت، ادب اور تاریخ کی باتیں۔ بلوچی شاعری کا دل کش اُتار چڑھاؤ، میٹھے لہجے میں ہونٹوں کی خفیف جنبش۔ میرے بالکل ساتھ بیٹھا شخص قحطانی بلوچ ہے۔ قحطانی یمن کا قبیلہ ہے۔ سینکڑوں سال پہلے کچھ قحطانی گوادر میں آباد ہوئے۔ کچھ وہیں یمن میں رہ گئے۔ سٹیج سے ”واحد اردو شاعر“ کے الفاظ میرے کانوں میں پڑتے ہیں، بلوچ محبت کا اسیر دل کیا کہتا، کیا سناتا۔ الفاظ آنکھوں کی نمی میں تیرتے، گلے کے نمک میں گھلتے رہے۔
تقریب کے بعد محبت کے تحائف تقسیم ہوئے۔ محبت سے بڑا تحفہ آج تک دریافت نہیں ہوسکا۔ محبت کی زبان سے دلوں کے علاقے فتح ہو جاتے ہیں۔ گولی کی آواز سے پنچھی ہی نہیں اُڑتے، وابستگیاں بھی پرواز کر جاتی ہیں۔
گوادر میں یہ پہلا دن تھا۔
میں جس جہاز میں تھا اُس نے علی الصبح کوئٹہ سے اُڑان بھری تھی۔ وہ وادیِ شال کے بلند و بالا، پُرجبروت پہاڑوں سے بلند ہو کر بلوچستان کے میدانوں، پہاڑوں، سرسبز کھیتوں، خشک میدانوں، دور دور بکھرے شہروں قصبوں پر پرواز کرتا ہوا گوادر کے قریب آ پہنچا۔ میں نے جہاز کے شیشے سے نیچے جھانکا تو حیران کرتا منظر آنکھوں میں دَر آیا۔ خشکی کا قطعہ دور تک گولائی میں سمندر کے اندر چلا گیا ہے۔ اس قطعے کی بیرونی جانب گولائیوں کے ساتھ ساتھ سمندر بہتا ہے جیسے گلدان زمین پر پڑا ہو۔ گوادر کی زمین پر نئی تعمیرات کا عمل جہاز ہی سے نظر آنے لگتا ہے۔
ایئر پورٹ پر اکمل شاکر مل گیا۔ وہ پی آئی اے کا ملازم ہے۔ پسنی کا یہ بلوچ شاعر اردو ماہیے کہتا ہے۔ بلوچی اور اردو نظم و غزل بھی خوب کہتا ہے۔ مجھے نواب گل محمد خان زیب مگسی یاد آگئے۔ وہ بلوچ نواب جو نو زبانوں میں شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے پنجابی شاعری بھی کی۔ ان کا کچھ فارسی کلام ”پنج گلدستہ“ کے عنوان سے چھپا۔ بہت سا ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔ اولاد جائیداد تو سنبھال لیتی ہے، علمی ورثہ کون سنبھالے؟
زیب مگسی ہو یا عطا شاد، افضل مراد ہو یا اکمل شاکر، اردو، پنجابی، بلوچی، براہوی رشتے ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے بندھے ہیں۔ لاہور کے باکمال شاعر خالد احمد دو نظموں ”جام دُرک کے لیے“ اور ”مست توکلی کے لیے“ کے گل دستے لیے بلوچستان پہنچے ہیں۔ آرٹ دلوں، لوگوں اور علاقوں کو جوڑتا ہے۔
ایئر پورٹ سے نکلتے ہی گاڑی نو تعمیر شدہ، کشادہ قالینی سڑک پر بھاگنے لگتی ہے۔ کوئٹہ کی سردی کے کچھ گھنٹے بعد ہی مارچ کا ساحلی معتدل موسم فرحت بخش رہا ہے۔ مہمان خانے کے دروازے پر بڑی سی مسکراہٹ میری منتظرہے۔ آبنوسی رنگت، گھنگھریالے بال، رخساروں کی ہڈیاں ابھری ہوئی اور چپٹی ناک۔ یہ ولی داد ہے۔ بن مانگے صاف پانی کا گلاس پیش کرتے ہوئے وہ دائیں ہاتھ میں گلاس اور بائیں ہاتھ سے دایاں بازو پکڑ کر گویا دونوں ہاتھوں سے پانی پیش کرتا ہے یہ بلوچ مہمان نوازی کا دل نشین انداز ہے۔
عطا شاد نے کہا تھا میری دھرتی پر پانی کے ایک پیالے کی قیمت سو سال وفا ہے۔ یہی اس دھرتی کی رِیت ہے۔ عزت کرو تو سو گُنا عزت ملے گی۔ نخوت سے بلاؤ تو نفرت سے جواب ملے گا۔
ہال میں پہنچا تو ایک پرانی بلوچی فلم دکھائی جا رہی تھی۔ کچھ حصے دکھانے کے بعد معروف فلم ٹی وی اداکار انور اقبال نے بلوچ ثقافت اور فلم پر گفتگو کی۔ اُن کا لفظ لفظ دانش و درد میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ بجا طور پر مشوّش تھے کہ جب ماضی میں عمدہ بلوچی فلمیں بن سکتی ہیں تو اب کیوں نہیں۔ سوال بہت سادہ ہے لیکن جواب کئی طرح کی پیچیدگیوں میں گھرا ہوا ہے۔ بلوچی زبان و ادب پر سیمینار ختم ہوا تو بلوچی مشاعرہ شروع ہوگیا۔
قلم والوں کا آپس میں بڑا عجیب رشتہ ہوتا ہے۔ اس اٹوٹ بندھن میں بندھے لوگ ملیں تو ٹوٹ کر ملتے ہیں۔ یہ لیجیے کے بی فراق چلے آتے ہیں۔ دوستوں سے ملاتے ہیں۔ محبتوں کے چراغ جلاتے ہیں۔ فراق میں وصال رُت کا جادو جگاتے ہیں۔
لفظ اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں، چاہے ان سے پل تعمیر کرلو چاہے دیوار۔ پل بناؤ تو کنارے مل جاتے ہیں، لوگ آتے جاتے ملتے ملاتے ہیں، ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ دوسرے کا نقطہئ نظر جان کر آپ کی اپنی نظر کی وسعت بڑھتی ہے۔ لفظوں سے دیوار بناؤ تو دلوں میں پلتی یک طرفہ غلط فہمیاں اوردو طرفہ بدگمانیاں بڑھتی رہتی ہیں۔ فاصلے بڑھ کر خلیج ہو جاتے ہیں۔ اہلِ قلم کے میل ملاپ سے باقی لوگوں کا ملنا جلنا آسان ہو جاتا ہے۔ لفظ کی روشنی، محبت کے چراغ اور علم کا نور راستوں کو آسان کرتے ہیں۔
سیمینار ختم ہوچکا ہے۔ لوگ محبت بھری گفتگو کر رہے ہیں۔ تصویریں بن رہی ہیں۔ میرے کان میں کوئی چپکے سے کہتا ہے ”چلو سمندر بلاتا ہے“۔ گاڑی ہمیں لے کر سڑکوں پر چل رہی ہے۔ گلیوں، بازاروں کے وہی مناظر جو ترقی کے منتظر کسی بھی شہر میں نظر آسکتے ہیں۔ بندرگاہ کی تعمیر اور تجارتی سرگرمیوں کے ثمرات کا سب کو انتظار ہے۔ لیکن ثمر اُسی کو ملتا ہے جو محنت کرتا ہے۔ تعلیم، ہنر، محنت اور لگن کے بغیر ترقی نہیں ہوا کرتی۔ علاقے خودبخود ترقی نہیں کرتے،وہاں کے لوگ انہیں اپنی محنت سے خوشحالی دیتے ہیں۔
گہرے سیاہ رنگ برقعوں میں سر تا پا مستور عورتیں آ جا رہی ہیں۔ یہ گوادر کی عرب جھلک ہے۔ اہلِ گوادر کے عربوں کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور تجارتی روابط رہے ہیں جو سماجی اطوار میں نظر آجاتے ہیں۔
ایک موڑ مڑتے ہی جیسے کسی نے آنکھوں پر رنگ انڈیل دیے۔ ایک جھماکا ساہوا اور نظر دور تک چلی گئی۔ ایسے جیسے سٹیج سے پردہ سَرک جائے اور ایک دم روشنیاں ظاہر ہوں۔ سیٹ کا منظر اور اس میں منجمد کردار ہُویدا ہو جائیں۔
منظر تاحدِّ نگاہ وسیع ہے۔ سمندر کا سبزی مائل نیلا پانی اور اس میں لنگرانداز اَن گنت کشتیاں، رنگ رنگ کے چھوٹے بجرے جیسے کسی کے آنچل پر بے ترتیب پولکا ڈاٹس۔نظر اپنے کناروں تک اس دل فریب منظر سے بھر چکی ہے۔ سیر چشمی شاید اسی کو کہتے ہیں۔
مچھیروں کی کشتیاں سمندر کی لہروں پر ہلکے ہلکورے لے رہی ہیں۔ ساکن منظر میں بس اتنا تحرک ہے۔ یہ بھی نہ ہوتا تو شاید میری آنکھوں میں زمین و زماں ساکت ہو جاتے۔ میں بے تابانہ ساحل پر اُترتا ہوں۔ ریت پر چلتے ہوئے پانی تک پہنچتا ہوں۔ پاؤں بھیگتے ہیں تو تازگی کی ایک نمکین لہر بدن سے گزر جاتی ہے۔ پایاب سمندر کے شفاف پانی میں رنگ رنگ کی سپیاں اور گھونگے نظر آ رہے ہیں۔ مچھیروں نے سمندر میں جال ڈال رکھے ہیں۔ کشتیوں پر رنگ برنگے جھنڈے سمندری ہوا سے پھڑپھڑا رہے ہیں۔جی چاہتا ہے یہ منظر یونہی رکا رہے اور زمانے بیت جائیں۔
ساحل کی ریت پر کئی چوبی کشتیاں زیر تعمیر ہیں۔ ہنر مند تختے سے تختہ ملا رہے ہیں کہ خشکی کا باسی انسان پانی میں اترسکے۔ لکڑی کی پہچان اور ناؤ سازی کا ہنر نسل درنسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔ کشتی بنانے کا قدیم عمل کتنا طلسم ناک ہے، یہ خوابوں کے جزیروں پر اترنے والے ہی جان سکتے ہیں۔ گوادر دو بلوچی الفاظ کا مجموعہ ہے۔ گوات معنی ہوا، اور در یعنی دروازہ۔ گوادر واقعی ترقی کی ہوا کا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔
اب ہم ساحل کے دوسرے حصے کی جانب رواں ہیں جہاں نئی بندرگاہ تعمیر کے مراحل سے گزر رہی ہے۔ یہ گہرے پانی کی قدرتی بندرگاہ ہے۔ اب قدیم تاریخی گودی کو جدید مشینی سہولتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ اس بندرگاہ اور اس سے نکلنے والے مواصلاتی رابطوں سے پورے ملک کے خواب جڑے ہیں۔ دساور سے سامان آکر یہاں اترے گا اور دساور کو چلا جائے گا لیکن اس عمل سے اہل وطن خوشحال ہوں گے۔ بڑے سے بڑا جہاز بھی سیدھے سبھاؤ گودی سے آن لگے گا ورنہ کم گہری بندرگاہوں پر بڑے جہاز کو چھوٹے جہاز کھینچ کر گودی تک لاتے ہیں۔کراچی کی بندرگاہ پر بھی یہی عمل ہوتا ہے۔
نوتعمیر شدہ پورٹ کے ساتھ ہی قدیم بندرگاہ ہے جو ابھی تک زیر استعمال ہے۔ کھلے سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر آنے والے جہاز اور کشتیاں یہاں لنگرانداز ہوتی ہیں۔ ٹنوں مچھلی اتاری جاتی ہے۔ نزدیک ہی مچھلی منڈی ہے۔ بیوپاری دام لگانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ میں پہلی بار اتنی زیادہ مچھلی دیکھ رہا ہوں۔ یہ سامنے دو منزلہ کشتی کھڑی ہے اس کی نچلی منزل کے گودام سے سیکڑوں مچھلیاں نکالی جا رہی ہیں انہیں سائز اور قسم کے مطابق الگ الگ جگہوں پر رکھا جا رہا ہے۔
مچھلی کی بُو بڑھتی جاتی ہے۔ ہمراہی مجھے خاص قسم کی مچھلی دکھاتا ہے۔ یہ ”گور“ ہے۔ اس مچھلی کو پکڑنا بڑی خاص مہارت اور دقت کا کام ہے۔ یہ کنڈی پر لگے ساکن چارے کو منہ نہیں لگاتی بلکہ چلتی پھرتی چھوٹی مچھلیاں کھاتی ہے۔ اس لیے ایک زندہ چھوٹی مچھلی کو کانٹا لگا کر سمندر میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گور اس چارہ مچھلی، کو کھاتی ہے اور ساتھ ہی کانٹا نگل جاتی ہے پھر اسے بہت غصہ آتا ہے وہ تڑپتی ہے، اپنی اور مچھیرے کی طاقت آزماتی ہے۔مچھیرااسے ڈھیل دے کر اس کی طاقت صرف ہونے دیتا ہے۔ سوچتا ہے کانٹا تو نگل چکی ہے، اب کہاں جائے گی۔ مزاحمت کمزور پڑتے ہی اسے کشتی پر کھینچ لیتا ہے۔ گور مچھلی ہاتھوں ہاتھ بکتی ہے اور مہنگی بکتی ہے۔
اسی رات میں ”گور“ کی لذت کا دائمی اسیر ہوا۔ کسی نے اس کی رس بھری ہڈی چوسنے کا مشورہ دیا۔ اب جو رَس زبان سے مَس ہوا تو لذت کا نیا مفہوم کھلا۔ وہیں کسی نے مشہور مقامی لوک کہانی سنائی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ دور دراز سے اونٹ پر لمبا سفر طے کرکے کوئی گوادر آیا۔ گور کے ذائقے سے ایسا مسحور ہوا کہ واپس اپنے وطن پہنچتے ہی اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوا۔ کسی واقفِ ذائقہ نے پوچھا۔ کیا تم نے گور مچھلی کی ہڈی کا رَس چکھا؟ نفی میں جواب ملنے پر کہا گیا ”تم نے روئے آب کی سب سے بڑی نعمت سے کنارا کیا۔ تمہیں کوئی حق نہیں کہ اس عدیم النظیر آبی تحفے پر رائے زنی کرو۔ اس ذائقے کے بغیر تمہاری زندگی میں ایسی کمی رہے گی جس کی تلافی ممکن نہیں۔ سو وہ مرد عاقل اسی پل اٹھا اور دوبارہ عازم ِگوادر ہوا۔ جب وہ اس زندگی بخش رس سے معمور ہو کر اپنے وطن لوٹا تو سب کو یہ مژدہ سنایا کہ اتنا لمبا سفر رائگاں نہیں گیا۔“
میں گور مچھلی کی نرم ہڈی کے بیچوں بیچ چھپے رَس کو ہونٹوں سے کھینچتا ہوں تو وہ اور بھی لذیذ لگتا ہے کیونکہ کہانی کی سماعت نے حِس ذائقہ کو مہمیز کر دیا ہے۔
یہ رات بلوچ کہانیوں کی کشتیوں پر ڈولتے گزری۔ لوک کہانیوں، اقوال اور لوک گیتوں میں ایسی علاقائی دانش ہوتی ہے جو کہیں اور سے نہیں مل سکتی۔ لوگوں کی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی نفسیات کا سراغ ان کے لوک ادب سے ملتا ہے۔
گوادر سے لوٹنا بہت مشکل ہے۔ دِل وہیں سمندر میں کھڑی کشتیوں کے سنگ ڈولتا رہ جاتا ہے۔ پر کیا کریں۔ واپسی برحق ہے۔ جو آیا ہے اسے جانا ہے۔ دامن بلوچوں کی محبت سے بھرا ہوا ہے اور دل تشکر سے معمور ہے۔ قدم اٹھانا مشکل ہو رہا ہے۔ ایئر پورٹ پر پہنچا تو اکمل شاکر نے آگے بڑھ کر میرا سامان اٹھا لیا ”اب کب آئیں گے سر؟“ میں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا۔ اُس کا رُخ دوسری طرف تھا۔ سو وہ میری آنکھوں کی نمی نہیں دیکھ سکا۔

شہزاد نیّرؔ

Facebook Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.